خطبات محمود (جلد 13) — Page 346
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء نصیحت پر بھی عمل کرو تب میں سمجھوں گا کہ میری پہلی نصیحت مکمل ہو گئی وگر نہ صرف پہلی نصیحت پر عمل کر کے جماعت کا ایک حصہ اگر خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو گیا ہے تو جماعت کا دوسرا حصہ اللہ تعالی کے غضب کے خطرہ کے نیچے آگیا ہے۔ بے شک میری اس نصیحت کے نتیجہ میں آپس کے جھگڑے بند ہو گئے ہیں، بے شک بغض اور کیئے جاتے رہے ہیں، بے شک زید اور بکر کے دل آپس میں مل گئے ہیں اور بے شک ہماری مجالس آباد اور ہماری مسجدیں بھائیوں سے بھر گئیں مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ ویرانی کا ایک نیا سامان بھی پیدا ہو گیا اور وہ اللہ تعالی کا غضب اور اس کی غیرت ہے جو اب ان کی خاطر بھڑ کے گی جو مظلوم ہو کر ظالموں کے پاس گئے اور ان سے بے قصور ہو کر معافی مانگی مگر وہ ظالم اپنے غرور میں رہے اور انہوں نے کہا کہ خوب ہوا آخر ہمار ا مد مقابل ہمارے سامنے جھک گیا اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔ یاد رکھو یہ طریق اختیار کرنے والا کوئی شخص اللہ تعالی کے فضلوں کا وارث نہیں ہو سکتا۔ اگر اللہ تعالی کی رحمت سے حصہ لینا چاہتے ہو تو اپنے نفوس کی کامل اصلاح کے لئے تیار ہو جاؤ اور تم میں سے جس شخص نے ظلم اور تعدی سے کسی دوسرے کا حق مارا ہوا ہو اس کا فرض ہے کہ فورا حق ادا کر دے ۔ بلکہ ہماری جماعت کو تو دوسروں کے حقوق کے متعلق وہ نمونہ دکھانا چاہئے جو صحابہ کے متعلق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمایا کرتے تھے۔ آپ فرماتے دو صحابی تھے ان میں جھگڑا ہو گیا اور جھگڑا اس بات پر ہوا کہ ایک شخص گھوڑا خرید نا چاہتا تھا اور دو سرا بیچنا چاہتا تھا۔ گھوڑا خرید نے والا کہے کہ میں اس کی زیادہ قیمت دوں گا کیونکہ میں گھوڑوں کو خوب پہچانتا ہوں اور جانتا ہوں کہ کونسا گھوڑا اچھا ہوتا ہے اور کونسا نا قص - تم تھوڑی قیمت بتلاتے ہو ، میں زیادہ دوں گا۔ اور گھوڑا بیچنے والا کے میں اتنی قیمت نہیں لوں گا کیونکہ میں گھوڑے کا مالک ہوں اور جانتا ہوں کہ یہ گھوڑا کس قیمت کا ہے۔ یہ وہ مؤمنانہ روح ہے جو دوسروں کی نگاہوں میں جماعت کو ممتاز بنا سکتی ہے اور یہ وہ روح ہے جس کے ماتحت لوگ خود بخود سلسلہ کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ پس یہ روح اپنے اندر پیدا کرد تا اللہ تعالی کے فضل تم پر نازل ہوں اور تا اللہ تعالی کہہ سکے کہ جب میرا فلاں بندہ کنگال ہو کر دوسروں کو ان کے حق دے دیتا بلکہ ان کے حق سے زیادہ دیتا ہے تو میں جس کے خزانے وسیع اور جس کی رحمت تمام عالم پر محیط ہے کیوں اس کے ساتھ خاص سلوک نہ کروں۔ پس بندوں سے نمایاں شفقت کا سلوک کرو تا تم پر بھی خدا نمایاں طور پر اپنی رحمت نازل کرے ۔