خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 345

خطبات محمود ۳۲۵ سال ۱۹۳۲ء پس اگر تم سے کسی بھائی نے معافی مانگی ہے تو تمہیں اپنے نفوس میں غور کرنا چاہئے کہ آیا تم ظالم تھے یا وہ - مگر بہت دفعہ انسان اپنے نفس کے محاسبہ میں غلطی کر جاتا ہے۔میں نے بڑے بڑے ظالموں کو دیکھا ہے۔میں نے بڑے بڑے حق مارنے والوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے دل میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم ظالم نہیں بلکہ مظلوم ہیں۔پس میری وہ نصیحت نامکمل رہے گی اگر میں اس کے ساتھ ہی یہ نہ کہوں کہ اب تم مظلوموں کے معافی مانگ لینے کی وجہ سے خدا کے غضب کے خطرہ میں آگئے ہو اور قریب ہے کہ تم میں سے بعض خدا کے غضب اور اس کی گرفت میں شدید طور پر گرفتار ہو جائیں۔پس اس خطرہ کو اپنے دلوں میں محسوس کرو اور اگر خود محسوس نہیں کر سکتے تو میں تمہیں خدا کے عذاب سے ڈراتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ خدا کا عذاب نہایت سخت ہو تا ہے ایسا سخت کہ اس سے زیادہ سخت اور کوئی عذاب نہیں ہوتا۔پس اپنے نفوس کا محاسبہ اپنی آنکھوں سے نہیں بلکہ دوسروں کی نگاہوں سے کرو کیونکہ بہت دفعہ انسانی آنکھ اپنے ذاتی عیوب معلوم کرنے سے قاصر رہتی ہے اور اگر تم اس محاسبہ کے بعد یہ محسوس کرو کہ تم نے کسی کا حق مارا ہوا ہے تو تم گھبرا جاؤ اور ڈرو تا ایسا نہ ہو کہ خدا کی گرفت کے نیچے آجاؤ اور جلد سے جلد دو سرے کا حق ادا کردو - بلکہ میں تمہیں یہاں تک کہتا ہوں کہ تم میں سے جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ مجھے فلاں کا اگر چہ حق دیتا ہے مگر رات گزار کر کل صبح دے دوں گاوہ اپنے دل میں ڈرے اور بہت ڈرے۔اسے کیا معلوم کہ اس کے لئے صبح ہوگی یا نہیں اور اسے کیا معلوم کہ صبح تک اس کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا یا بند ہو جائے گا کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ رات بھر زندہ رہے گا یا نہیں۔اور کوئی نہیں جانتا کہ پھر اس کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رے گا یا نہیں۔اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے دل میں یہ خیال کرتا ہے کہ میں نے فلاں کا حق دیتا ہے مگر آج نہیں اس پر کل غور کروں گاوہ بھی اپنے دل میں ڈرے اور بہت ڈرے اسے کیا معلوم کل کا دن اس کے لئے آئے گا یا نہیں اور اسے کیا معلوم کہ اگر کل کا دن اس کے لئے چڑھا بھی تو اس کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا یا نہیں۔لیکن اگر کوئی جانتا ہے کہ میں نے فلاں کا حق مارا ہوا ہے اور پھر بھی وہ اس کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ کو یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خطرہ میں ڈالتا اور اپنی روح کو شیطان کے حوالے کرتا ہے اور ہر سیکنڈ جو اس کی زندگی کا گزرتا ہے اسے خطرہ اور عذاب کے زیادہ قریب کرتا جا رہا ہے۔پس جس قدر جلد سے جلد ہو سکے اپنے بھائی کا حق واپس کر دو بلکہ کوشش کرو کہ اس کے حق سے زیادہ اسے واپس کرو تا اس کی مظلومیت کا بدلہ بھی اتار سکو۔اگر تم میری اس