خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 293

خطبات محمود ۲۹۳ سال ۱۹۳۱ء موجب ہو سکیں۔ کسی کے ساتھ لڑائی خواہ اس کا نام دفاع ہی کیوں نہ رکھو بغیر موقع محل کے نہ کرو رسول کریم میں ہم نے مکہ کی زندگی اور پھر مدینہ کی ابتدائی زندگی میں ہرگز کوئی مقابلہ نہیں کیا پھر دیکھو مدینہ میں عبداللہ بن ابی مشہور منافق نے آپ مسلم کی گردن میں پنکھ ڈال دیا مگر آپ م نے ہر گز لڑائی نہیں کی بلکہ برداشت کیا حالانکہ آپ مسلم کے پاس طاقت تھی پھر اس میں نے یہاں تک کہا کہ ہمیں مدینہ پہنچ لینے دو وہاں جا کر ہمارا معزز ترین آدمی یعنی میں ذلیل ترین یعنی محمد مسلم کو نکال دے گا اس وقت بھی رسول کریم مسلم نے کسی قسم کا دفاع نہیں کیا حالانکہ ہر قسم کی طاقت حاصل تھی تو ہر حملہ کا دفاع ضروری نہیں ہوتا اور حملہ کرنا تو ہر حالت میں اسلام ممنوع ہے ہاں دفاع جائز ہے مگر امام کے ماتحت ہو کر ۔ حملہ تو اگر امام بھی کرے گا تو وہ خدا کی گرفت کے نیچے ہو گا اور دفاع بھی اللہ تعالی کی طرف سے ممنوع ہے سوائے اس کے کہ امام کے حکم کے ماتحت کیا جائے میں سمجھتا ہوں کہ ابھی ہم نے صبر کا وہ نمونہ دنیا کو نہیں دکھایا اور ابھی وہ مصائب ہم پر نہیں آئے جن سے دنیا متاثر ہو ۔ ہمارے افغانستان کے بھائیوں نے وہ نمونہ دکھایا تو دیکھو کسی طرح ساری دنیا اس سے متأثر ہو گئی۔ ہماری تو ابھی وہی حالت ہے جیسے باپ کی کمائی بیٹا کھاتا ہے ابھی افغانستان کے بھائیوں کی قربانیوں۔ وں سے ہی ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں آ۔ ہے ہیں آپ لوگوں : لوگوں میں سے ابھی کسی نے جان نہیں دی افغانستان کے بھائیوں کی قربانیوں سے ہی فائدہ اُٹھایا جا رہا ہے ۔ پس ہر موقع پر صبر اخلاق اور شفقت کا نمونہ دکھاؤ اور ایسا نمونہ دکھاؤ جو دوسروں پر اثر کئے بغیر نہ رہے۔ جو شخص گھر میں آرام سے بیٹھا ہے اور اس کا نام صبر رکھتا ہے وہ جھوٹا اور بزدل ہے ۔ صبر کے معنے یہ ہیں کہ اپنا کام بھی بند نہ ہو اور دشمنوں کے مظالم بھی برداشت کئے جائیں۔ ممکن ہے کوئی شخص یہ خیال کرے کہ یہ لوگ قادیان میں آرام سے بیٹھے ہیں اور انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا سب مصائب باہر کی جماعتوں کے لئے ہیں مگر یہ خیال کرنا غلطی ہے۔ جس شہر کی جماعت سمجھتی ہو کہ اسے بہت زیادہ گالیاں دی جاتی ہیں وہ اگر سارے سال کی گالیاں جمع کرے تو بھی ان سے کم ہو گی جو مجھے ایک دن میں ملتی ہیں۔ پھر منافقوں اور بیرونی دشمنوں کی فتنہ انگیزیاں ایسے حالات پیدا کر دیتی ہیں کہ عین ممکن ہوتا ہے قادیان کو دار الحرب بنا دیں۔ کانگرس کی تحریک سول نافرمانی کے دوران میں چار پانچ لوگ ایسے وہاں آئے جن کا مقصد سوائے شرارت کے اور کوئی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ ایک دفعہ مدر اس کے علاقہ کا ایک کانگری ہندو ملنے کے لئے آیا اور اس نے اصرار کیا کہ مجھے بالکل علیحدہ ملاقات کا موقع دیا جائے میں نے کہا کہ ہمارا دستور ہے کہ سیکرٹری کی