خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 294

خطبات محمود ۲۹۴ سال موجودگی میں ملاقات ہو مگر وہ نہ مانا اور آخر جب پوچھا کہ ملاقات کی غرض کیا ہے تو چونکہ اس سے کوئی معقول جواب نہ بن سکا اس لئے اس نے کہہ دیا کہ میں اپنی جائداد کے متعلق مشورہ کرنا چاہتا ہوں اب سوچنا چاہئے کہ مدر اس کے ایک کانگرسی ہندو کو اپنی جائداد کے متعلق مجھ سے مشورہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ایسے لوگ متواتر قادیان میں آتے رہے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ جب سے گاندھی جی آزاد ہو گئے اور سول نافرمانی بند ہو گئی ہے اس وقت سے کوئی ہندو ایسے مشوروں کے لئے میرے پاس نہیں آتا۔بعض ہندوؤں کے دلوں میں بھی خدا تعالی بات ڈال دیتا ہے اور وہ مجھے اطلاع دے دیتے ہیں کہ آپ کے متعلق فلاں منصوبہ کیا جارہا ہے اور کئی ایک نے ایسی اطلاعات دی ہیں۔تو یہ بالکل غلط ہے کہ ہم قادیان میں امن سے بیٹھے ہیں۔میں نے کہا ہے کہ جتنی گالیاں کسی ایسی جماعت کو جہاں مخالفت پوری شدت پر ہو سال بھر میں ملتی ہیں اس سے زیادہ مجھے ایک دن میں ملتی ہیں بلکہ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ صوبہ بھر کی گالیاں بھی مجھ سے کم ہیں اور ان حالات میں ہمارے لئے بھی صبر کا بہت موقع ہے آپ لوگوں سے زیادہ گالیاں اور مصائب ہم کو اٹھانے پڑتے ہیں دشمن کی نظر افراد پر نہیں ہوتی بلکہ لیڈر پر ہوتی ہے پھر اس کی نگاہ خدا پر نہیں ہوتی اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ سلسلہ الہی ہے اور خدا اس کا بانی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں سمجھاجاتا تھا کہ اگر آپ کو مار دیا جائے تو سب کام بند ہو جائے گا۔پھر آپ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے متعلق یہ خیال تھا پھر میرے متعلق پہلے تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ بچہ ہے مگر اب کہتے ہیں بہت ہوشیار آدمی ہے اگر یہ نہ ہو تو سلسلہ فورا مٹ جائے حقیقت یہ ہے کہ الہی سلسلوں کو مٹانا انسانی کام نہیں مگر دشمن یہ خیال نہیں کرتا۔جو لوگ سیالکوٹ کے جلسہ میں موجود تھے وہ جانتے ہیں کہ سب پتھر مجھ پر ہی پھینکے جارہے تھے اور وہی لوگ زخمی ہوتے تھے جو میرے ارد گرد تھے ممکن ہے اتفاقا کسی اور کو بھی چوٹ آگئی ہو مگر مارنے والوں کا نشانہ میں ہی تھا مخالفوں کو اتنی عداوت آپ لوگوں سے نہیں جتنی مجھ سے ہے یا جو پہلے ائمہ سے تھی یا آئندہ سے ہوگی گالیاں اور خطرات مجھے آپ لوگوں سے کہیں زیادہ ہیں مگر میرا یہ کام نہیں کہ شور مچاتا پھروں آپ لوگ بھی ہمت سے کام لیں۔خوب یا د رکھو کہ استَعينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ ہی اصل نمونہ ہے پس مخلوق پر ثابت کرو کہ تم بزدل نہیں ہو۔جنگ احد کے موقع پر رسول کریم میں یا یہ صحابہ کو لے کر ایک محفوظ مقام پر بیٹھے تھے کہ ابو سفیان نے پکارا کیا تم میں محمد ہے۔آپ نے فرمایا جواب مت دو۔پھر اس نے حضرت ابو بکر اللہ اور حضرت بکر