خطبات محمود (جلد 13) — Page 292
خطبات محمود ۲۹۲ سال ۱۹۳۱ء لوگوں کے پاس گیا۔لوگوں نے مجھے گالیاں دیں مارا پیٹا مگر میں پھر گیا۔مجھ پر اور میرے دین پر دل آزار حملے کئے گئے مگر میں پھر بھی گیا اور پھر بھی میرے پاس وقت بیچ رہا ہے تو بے شک میں سمجھوں گا اس کے پاس لڑائی کے لئے بھی وقت ہے۔لیکن جب ہمارے پاس اتنا بڑا کام ہے تو لڑائی کی ہمیں فرصت ہی کہاں ہو سکتی ہے میں یہ کس طرح مان لوں کہ ایک شخص تبلیغ کے لئے تو وقت نہیں نکال سکتا مگر لڑائی کے لئے اسے وقت مل سکتا ہے۔اگر تم اسلام کے لئے اپنی عزت اور جان قربان کر دینے کا دعویٰ کرتے ہو تو وقت کی قربانی کیوں نہیں کرتے۔جس کے لئے میں بار بار اپلیں کرتا ہوں روپیہ کیوں نہیں دیتے جس کے لئے بار بار اپلیں کرتا ہوں جان اور روپیہ بہر حال وقت سے زیادہ قیمتی ہے۔زندگی ساٹھ یا ستر سال یا کم و بیش عرصہ تک سانس لینے کا نام ہے اور جب ایک شخص دین کے لئے ایک گھڑی بھر وقت نہیں دے سکتا تو میں کس طرح مان لوں کہ وہ سنجیدگی سے کہہ رہا ہے کہ دین کی خاطر اپنی جان دینے کے لئے آمادہ ہے۔ایسا شخص خدا کو دھوکا دینا چاہتا ہے۔یا یوں کہہ لو کہ وہ اپنے نفس کو دھوکا دے رہا ہے وگر نہ کیا وجہ ہے کہ وہ روزانہ دو گھنٹے بھی تبلیغ کے لئے نہیں دے سکتا۔تم میں کتنے ہیں جو روزانہ اپنے محلہ میں یا ارد گرد کے گاؤں میں جا کر پیغام حق پہنچاتے ہیں اور تبلیغ کرتے ہیں۔اسے میں تبلیغ نہیں سمجھتا کہ دوسری گفتگو کے دوران میں کبھی احمدیت کا ذکر بھی آگیا بلکہ تبلیغ یہ ہے کہ خالص طور پر تبلیغ ہی کی جائے اور اسی نیت سے دوسروں کے پاس جایا جائے یہ نمونہ اپنے اندر پیدا کرو اور پھر دیکھو کس طرح چھ ماہ کے اندرہی ا دنیا میں انقلاب بپا ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جس حالت میں یہ جماعت میرے سپرد ہوئی تھی اس سے ہر حالت میں ترقی ہی ترقی کر رہی ہے۔جب میں خلیفہ ہوا تو مردم شماری کے کاغذات میں پنجاب کے اندر احمدیوں کی تعداد اٹھارہ ہزار تھی پھر دوسری مردم شماری میں اٹھائیس ہزار ہوئی اور اب کے خدا کے فضل سے چھپن ہزار ہے۔اگر چہ میں بخوبی جانتا ہوں کہ یہ غلط ہے اور جماعت اس سے بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کے بعض دوسرے صوبوں میں تو جماعت میرے ہی زمانہ میں قائم ہوئی ہے اور پنجاب جو سلسلہ کا مرکز ہے اس میں بھی سرکاری رپورٹ کے مطابق جماعت دوگنی ہو گئی ہے اگر چہ یہ صحیح تعداد نہیں اور جماعت اس سے بہت زیادہ ہے اور دوسرے ممالک میں بھی ساری جماعتیں میرے ہی زمانہ میں قائم ہوئی ہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے فضل سے جماعت کو میرے ہاتھ میں ترقی دے رہا ہے۔پس کسی قسم کی گھبراہٹ ظاہر نہ کرو اور اپنے اوقات کو ایسے رنگ میں خرچ کرو کہ وہ زیادہ سے زیدہ فائدہ کا