خطبات محمود (جلد 13) — Page 254
خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء میں بھی چندہ نہ دے سکوں تو میں سمجھوں گا کہ اتنا چندہ میرے ذمہ قرض بے حالات کے بدلنے پر یا اتنے عرصہ تک میں وہ رقم قرض سمجھتے ہوئے خدا کے رستہ میں دیدوں گا کیونکہ خدا کے قرض ہمیشہ ادا کئے جاتے ہیں۔جب دنیا کے قرض ادا کرنے کے لئے لوگ کو ششیں کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں خدا کا قرض اتارنے کی فکر نہ کی جائے۔پس اس نیت کے ماتحت اگر دو سرے ہی دن میری حالت بدل جاتی ہے تو اسی وقت مقررہ رقم ادا کرنے کی میں کوشش کروں گا۔اس معاملہ میں میں قادیان کی جماعت کو خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں اور انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں دو سروں کے لئے نمونہ بننا چاہئے۔آج سے دس سال پہلے قادیان اور لاہور کی جماعتیں لوگوں کے سامنے بطور نمونہ ظاہر ہوا کرتی تھیں مگر افسوس ہے لاہور اس کے بعد گر گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے امیر اور کاموں میں مصروفیت کی وجہ سے جماعت کے کاموں کی طرف توجہ نہ کر سکے مگر اب لاہور کی جماعت پھر اٹھ رہی ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ وہاں کے مقامی امیر اور دوسرے لوگوں کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ جماعت کی ترقی کی کوشش کر سکیں۔میں نے پچھلے دنوں انہیں کچھ نصیحتیں کی تھیں جس کے بعد مجھے بتایا گیا ہے کہ اب ان میں بیداری کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔مگر جو خبریں وہاں سے آئی ہیں وہ ابھی ایسی نہیں کہ انہیں لوگوں کے سامنے بطور نمونہ پیش کیا جا سکے۔بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جو ان سے بہت زیادہ اچھا نمونہ دکھا رہی ہیں۔پس ابھی انہیں اور کوشش کی ضرورت ہے اسی طرح قادیان کی جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیشہ عزت کے مقام کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو مقام ایک دفعہ کھویا جائے وہ دوبارہ بڑی مشکلوں کے بعد حاصل ہوا کرتا ہے جس طرح گرے ہوئے آدمی کا اٹھنا مشکل ہوتا ہے اسی طرح جو ایک دفعہ کسی عزت کے مقام سے نیچے گر پڑے اس کا دوبارہ وہی مقام حاصل کرنا بہت بڑی قربانیوں اور کوششوں کا متقاضی ہوتا ہے۔پس یا دور کھو اگر اس چندے کے موقع پر تم لوگ پیچھے رہ گئے تو سالہا سال کی قربانیوں سے بھی یہ مقام جو تمہیں اب میتر ہے حاصل نہیں ہو سکے گا کیونکہ جب ایک جماعت پیچھے رہ جاتی ہے تو دوسری جماعتیں آگے بڑھتی ہیں اور ان کا جوش اور اخلاص بڑھ جاتا ہے اور پھر وہ نہیں چاہتیں کہ کوئی اور جماعت ان سے بڑھ سکے۔پس ان کی کوششیں نمایاں مقام حاصل کر جاتی ہیں اس لئے اپنے اول ہونے کے مقام کو کبھی ضائع نہ ہونے دو کہ یہ نہایت قیمتی مقام ہے۔کئی دشمن ہیں جو کہا کرتے ہیں کہ قادیان کے مقامی لوگ خلیفہ موقت کے رعب کی وجہ سے اور اس کے زور اور دباؤ کی وجہ سے چندہ دیتے ہیں لیکن دشمن کی گواہی اس کی