خطبات محمود (جلد 13) — Page 255
خطبات محمود ۲۵۵ زبان کی گواہی ہوتی ہے اور تمہاری گواہی تمہارے دل کی گواہی ہوگی۔اگر تم اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہو کہ تم کسی دباؤ کی وجہ سے چندہ دیتے ہو تو سمجھ لو کہ تمہارا روپیہ یہاں بھی ضائع ہوا اور اگلے جہان میں بھی اس دنیا میں بھی تم نے اپنے اموال میں کمی کی اور اگلے جہان میں بھی ثواب حاصل نہ کیا لیکن اگر سمجھو کہ تم محض خدا کے لئے چندہ دیتے ہو اور اس قدر اپنے اندر اخلاص اور ایمان رکھتے ہو کہ اگر خدا کے دین کے لئے تمہیں اپنے اموال قربان کرنے پڑیں تو تم تیار ہو ، عزت قربان کرنی پڑے تو تیار ہو عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑنا پڑے تو تیار ہو وطن کو قربان کرنا پڑے تو تیار ہو تو دشمن خواہ کس قدر بکو اس کرے تمہارا معاملہ تمہارے خدا کے ساتھ ہے اور وہ تمہیں اس اخلاص اور نیکی کا اپنے حضور عظیم الشان بدلہ دے گا۔میں جمعہ کے بعد سیالکوٹ جانے والا ہوں عصر کی نماز جمعہ کے ساتھ ہی انشاء اللہ پڑھا دوں گا خطبہ مجھے چھوٹا پڑھنا چاہئے تھا مگر لمبا ہو گیا۔میں امیر کے متعلق چلتے ہوئے اعلان کرادوں گا دو یا تین دن باہر رہوں گا میں امید کرتا ہوں کہ مقامی کارکن بہت جلد یہاں کی جماعت کے چندہ کو میرے سامنے پیش کریں گے۔مقامی عہدیداروں کو چاہئے کہ کارکن جنہیں رقوم ان کے عملوں سے ملتی ہیں۔بہت جلد ان کے بل پاس کرا کے چندہ کی رقمیں ادا کر دیں تا ایسا نہ ہو کہ یہاں کے کارکن دوسرے لوگوں سے پیچھے رہ جائیں اگر اس میں غفلت ہوئی تو کارکنوں کا قصور ہو گا کہ انہوں نے اول ہونے کے ثواب میں یہاں کے لوگوں کو شامل ہونے سے روکا۔لوگ تیار ہیں صرف یہ چاہئے کہ ان کے بل پاس کرا کے رقمیں وصول کرلی جائیں باقی اللہ تعالیٰ سے دعا ئیں کرنی چاہیئں کہ وہ ان مشکلات اور مصائب کے دنوں کو دور فرمائے۔اور اصل بات تو یہ ہے کہ میں انہیں مصائب کے دن سمجھتا ہی نہیں کیونکہ مومن کا دل اتنا وسیع ہوتا ہے کہ وہ مصیبت کو مصیبت ہی نہیں سمجھتا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا آغاز الحمد للہ سے کیا پس مومن کا تو کام ہی یہ ہے کہ وہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور وہ یہی کہتا ہے کہ جو خدا کی طرف سے حالت نازل ہوئی وہی اچھی ہے۔اگر بظا ہر بری نظر آتی ہے تو وہ میری آنکھوں کا قصور ہے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے ایک چور کو اپنی آنکھ سے چوری کرتے دیکھا۔انہوں نے اسے کہا دیکھ تجھے اصلاح کرنی چاہئے۔وہ کہنے لگا خدا کی قسم! میں نے چوری نہیں کی حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا میری آنکھوں نے غلطی کی مگر تیرے قول کو میں نے سچا مان لیا۔حضرت مسیح علیہ السلام اگر ایک چور کو کہہ سکتے ہیں کہ میری آنکھیں جھوٹی ہیں مگر تو جھوٹا نہیں تو