خطبات محمود (جلد 13) — Page 198
خطبات محمود ۱۹۸ کے سارے کام دیکھ لو۔لوگوں کو مارا بھی جاتا ہے بیٹا بھی جاتا ہے اور دھوکا اور فریب پیٹ بھر کر کیا جاتا ہے مگر اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ایک تماشہ ہے جو ان لوگوں نے بنا رکھا ہے۔پھر بھی یہ لوگ گاندھی کو محمد ملی اور آپ کے خدام کے مقابل میں پیش کرتے ہیں۔حالانکہ محمد مین ایر تو کیا آپ کے خادموں کے خادموں کے مقابلہ میں بھی گاندھی کی کچھ حیثیت نہیں۔ہم دنیاوی لحاظ سے گاندھی جی کا اعزاز کرتے ہیں لیکن اگر خود ان کے چیلے چانٹے مذہبی پیشواؤں کے مقابل پر انہیں کھڑا کریں اور ہم جوابا حقیقت کا اظہار کریں تو ہم معذور ہیں۔اگر گاندھی جی یا ان کے چیلوں کو ہماری یہ باتیں بُری لگیں تو اس کی تمام تر ذمہ داری خود گاندھی جی پر ہے۔سید عطاء اللہ شاہ کی تو ہستی ہی کیا ہے ان کے بڑے بڑے لیڈر بھی جماعت احمدیہ کی تعریف کرتے ہیں۔ڈاکٹر سید محمود صاحب جو کانگریس کے سیکرٹری ہیں انہوں نے میرے سامنے کہا کہ میں۔آپ کے سیاسی خیلات سے اختلاف رکھتا ہوں لیکن مذہبی لحاظ سے آپ کی اسلامی خدمات کا قائل ہوں۔ہمارے در د صاحب جب گاندھی جی سے ملنے گئے تو اس وقت بھی گاندھی جی کے سامنے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مسلمانوں میں اگر کوئی کام کرنے والی جماعت ہے تو وہ احمد یہ جماعت ہی ہے۔جس پر خود گاندھی جی نے کہا کہ میں اس امر کو خوب جانتا ہوں۔پس لیڈروں کے تو یہ خیال ہیں مگر یہ ان کے شاگردوں کا شاگرد کہتا ہے کہ جماعت احمد یہ گائے کا پیشاب پیا کرے گی۔احمد یہ جماعت گائے کا پیشاب نہیں بنے گی بلکہ وہ اس جیسے بے غیرت لوگوں کو پینے سے بچائے گی۔کیونکہ ہمارا کام ہی یہ ہے کہ ہم اسلام کی وہ عظمت قائم کریں جو ہر قسم کے شرک کو دنیا سے ملیا میٹ کر دے۔ہر شخص اپنے مقام پر اچھا سمجھا جاتا ہے لیکن اگر اس کو اس کے اصل مقام سے بڑھا دیا جائے تو یہ اچھا نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔باپ اپنی جگہ قابل اعزاز ہستی ہے اور بادشاہ اپنی جگہ۔لیکن اگر کوئی باپ کو بادشاہ کے مقابل پر کھڑا کرتا ہے تو وہ خود اپنے آپ کو ذلیل کراتا ہے کیونکہ بادشاہ کی تمام رعایا عزت کیا کرتی ہے۔پھر اگر کوئی اسے خدا کے ایک نبی کے مقابل کھڑا کرتا ہے تو وہ اسے اور ذلیل کراتا ہے۔اسی طرح اگر لوگ اپنے جیسے کسی انسان کو خدا کے مقابل پر کھڑا کریں تو اسے بہت ہی زیادہ ذلیل اور رسوا کراتے ہیں۔پس ہماری جماعت ان لیڈروں کا ہمیشہ سے ادب کرتی چلی آئی ہے اور ہم ہمیشہ گاندھی جی کی جائز حد تک تعظیم کرتے چلے آئے ہیں لیکن اگر ان کے چیلے گاندھی جی کو ہمارے مامور کے مقابل پر کھڑا کرتے ہیں تو ہم انہیں بتائے دیتے ہیں کہ اخلاقی طور پر ہم گاندھی جی کی کچھ بھی حیثیت نہیں سمجھتے۔محمد مایا اللہ کا ایک ادنیٰ سے ادنی ترین غلام جس سے