خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 198

خطبات محمود ۱۹۸ سال ۱۹۳۱ء کے سارے کام دیکھ لو۔ لوگوں کو مارا بھی جاتا ہے پیٹا بھی جاتا ہے اور دھوکا اور فریب پیٹ بھر کر کیا جاتا ہے مگر اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ ایک تماشہ ہے جو ان لوگوں نے بنا رکھا ہے۔ پھر بھی یہ لوگ گاندھی کو محمد میں ہم اور آپ کے خدام - آپ کے خدام کے مقابل میں : میں پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ محمد میں ایلیم تو کیا آپ کے خادموں کے خادموں کے مقابلہ میں بھی گاندھی کی کچھ حیثیت نہیں ۔ ہم دنیاوی لحاظ سے گاندھی جی کا اعزاز کرتے ہیں لیکن اگر خود ان کے چیلے چانٹے مذہبی پیشواؤں کے مقابل پر انہیں کھڑا کریں اور ہم جو ابا حقیقت کا اظہار کریں تو ہم معذور ہیں۔ اگر گاندھی جی یا ان کے چیلوں کو ہماری یہ باتیں بُری لگیں تو اس کی تمام تر ذمہ داری خود گاندھی جی پر ہے ۔ سید عطاء اللہ شماہ کی تو ہستی ہی کیا ہے ان کے بڑے بڑے لیڈر بھی جماعت احمدیہ کی تعریف کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سید محمود صاحب جو کانگریس کے سیکرٹری ہیں انہوں نے میرے سامنے کہا کہ میں ۔ آپ کے سیاسی خیالات سے اختلاف رکھتا ہوں لیکن مذہبی لحاظ سے آپ کی اسلامی خدمات کا قائل ہوں۔ ہمارے ور و صاحب جب گاندھی جی سے ملنے گئے تو اس وقت بھی گاندھی جی کے سامنے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مسلمانوں میں اگر کوئی کام کرنے والی جماعت ہے تو وہ احمد یہ جماعت ہی ہے۔ جس پر خود گاندھی جی نے کہا کہ میں اس امر کو خوب جانتا ہوں۔ پس لیڈروں کے تو یہ خیال ہیں مگر یہ ان کے شاگردوں کا شاگر رکھتا ہے کہ جماعت احمد یہ گائے کا پیشاب پیا کرے گی ۔ احمد یہ : ر یہ جماعت گائے کا پیشاب نہیں بنے گی بلکہ وہ اس جیسے بے غیرت لوگوں کو پینے سے بچائے گی۔ کیونکہ ہمارا کام ہی یہ ہے کہ ہم اسلام کی وہ عظمت قائم کریں جو ہر قسم کے شرک کو دنیا سے ملیا میٹ کر دے۔ ہر شخص اپنے مقام پر اچھا سمجھا جاتا ہے لیکن اگر اس کو اس کے ام اگر اس کو اس کے اصل مقام سے بڑھا دیا جائے تو یہ اچھا نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ باپ اپنی جگہ قابل اعزاز ہستی ہے اور بادشاہ اپنی جگہ ۔ لیکن اگر کوئی باپ کو بادشاہ کے مقابل پر کھڑا کرتا ہے تو وہ خود اپنے آپ کو ذلیل کراتا ہے کیونکہ بادشاہ کی تمام رعایا عزت کیا کرتی ہے۔ پھر اگر کوئی اسے خدا کے ایک نبی کے مقابل کھڑا کرتا ہے تو وہ اسے اور ذلیل کراتا ہے۔ اسی طرح اگر لوگ اپنے جیسے کسی انسان کو خدا کے مقابل پر کھڑا کریں تو اسے بہت ہی زیادہ ذلیل اور رسوا کراتے ہیں۔ پس ہماری جماعت ان لیڈروں کا ہمیشہ سے ادب کرتی چلی آتی ہے اور ہم ہمیشہ گاندھی جی کی جائز حد تک تعظیم کرتے چلے آئے ہیں لیکن اگر ان کے چیلے گاندھی جی کو ہمارے مامور کے مقابل پر کھڑا کرتے ہیں تو ہم انہیں بتائے دیتے ہیں کہ اخلاقی طور پر ہم گاندھی جی کی کچھ بھی حیثیت نہیں سمجھتے۔ محمد میر کا ایک ادنیٰ سے ادنی ترین غلام جس سے