خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 197

خطبات محمود 194 سال ۱۹۳۱ء اور تعریف بھی اس رنگ میں کی کہ گویا وہ مسلمانوں کے رہبر بننے کے قابل ہیں۔حالانکہ وہ شخص محمد میر کی جوتیوں کا تسمہ کھولنے کے بھی قابل نہیں۔گاندھی جی ساری دنیا کے بھی فاتح ہو جائیں تب بھی اخلاقی لحاظ سے وہ محمد میر کے مقابل میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔وہ جبھی حقیقی عزت حاصل کر سکتے ہیں جب رسول کریم می و لیور کی غلامی میں آجائیں پس ایسے شخص کی تعریف کرنا اور اس کی مدح کے راگ گانا انتہاء درجہ کی نادانی اور حماقت ہے کیا یہ وہی شخص نہیں جس کی آنکھوں کے سامنے ہندؤوں کی طرف سے مسلمانوں پر تشدد ہوتا ہے مگر وہ چپ بیٹھا رہتا ہے۔ملک میں یہ تمام فتنہ اور فساد پیدا کرنے والے دراصل کا نگریس کے لوگ ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے افعال کے متعلق نفرت کا اظہار نہیں کیا جاتا محمد مال تو جس بات کو سچا سمجھتے تھے اسے کبھی بھی چھپاتے نہیں تھے مگر یہ گروہ کام کچھ اور کرتا ہے اور زبان سے کچھ اور اظہار کرتا ہے یہی وہ گروہ ہے جس کی مرضی سے خون کئے جاتے ہیں اگر ان کی مرضی سے یہ سب کچھ نہیں ہو تا تو کیا وجہ ہے کہ بنارس میں جب ایک کپڑا بیچنے والے مسلمان کا قتل کا نگریسوں کی طرف سے ہوا اور اس پر غیر معمولی فساد ہو گیا تو کانگرس نے اس کی تحقیق نہیں کرائی۔پھر کیوں کانپور میں جو وارداتیں ہوئیں ان پر نوٹس نہیں لیا گیا محض اس لئے کہ یہ جانتے تھے لوگ ہمارا ہی کام کر رہے ہیں یہ عجیب بات ہے کہ فعل کی حقیقت سے تو نفرت کا اظہار نہیں کرتے۔مگر عدم تشدد کا دعویٰ کیا جاتا ہے جس کے اندر ذرہ بھر بھی صداقت نہیں مگر محمد جو کہتے تھے وہی کرتے بھی تھے۔آپ کا قدم راستی پر تھا اور آپ ایسے بلند مقام پر پہنچے ہوئے تھے کہ جس کی گرد تک بھی یہ لوگ نہیں پہنچ سکتے۔دراصل یہ دنیا دار لوگ ہیں جدھر عزت اور دولت دیکھتے ہیں اسی طرف جھک جاتے ہیں۔لار ڈارون سے ملاقت ہوئی گاندھی جی اس پر ریشہ معظمی ہو گئے اور ہندو یہ کہتے ہوئے پھولے نہیں سماتے تھے کہ لارڈارون نے گاندھی جی سے چھ گھنٹے تک ملاقات جاری رکھی۔اگر یہ لوگ مردم پرست نہ ہوتے تو چھ گھنٹے کیا ساٹھ گھنٹے کی ملاقات بھی انہیں ان کے اصل مقصد سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹا سکتی مگر یہ جیسا موقع دیکھتے ہیں اس کے مطابق اپنے اعمال میں تغیر کر لیتے ہیں۔ان کے محض بناوٹی اخلاق ہیں، دھوکے کی ٹٹیاں ہیں اور پھر منہ کھولتے ہیں اس سچائی اور راستبازی کے بادشاہ پر جسے آدم سے لے کر آج تک تمام انبیاء پر فضیلت حاصل ہے اور جسے اللہ تعالی نے سید ولد آدم قرار دیا ہے۔کہنے کو تو کہتے ہیں ہمارا اصل عدم تشدد ہے۔مگر کانگرسیوں