خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 199

خطبات محمود ١٩٩ سال ۱۹۳۱ء ادتی ہو نا نا ممکن ہو اسے بھی ہم گاندھی جی سے ہزاروں درجے افضل سمجھتے ہیں۔پس اگر کانگریس کے دلدادہ اور کانگریس کے تنخواہ دار ایجنٹ چاہتے ہیں کہ ہم ان کے لیڈروں کا ادب کریں تو وہ انہیں ہمارے بزرگوں کے مقابل کھڑا نہ کریں۔دونوں کے مقاصد میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ایک دنیا کے لئے لڑ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ دنیا کو دنیا دے اور ایک بھولی بھٹکی دنیا کو خدا سے ملانا چاہتا ہے۔اگر چہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ جو اس کے لئے دنیا چھوڑ دے اسے دنیا بھی مل کر رہتی ہے اور زمانہ دیکھے گا کہ وہی مسیح موعود جو دنیا کو روحانی بادشاہت کے لئے بلا رہا ہے آخر دنیا بھی اس کے قدموں میں لاڈالی جائے گی اور دنیا کے بادشاہ آپ کے غلاموں میں داخل ہو کر آپ کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔آج نہیں گل گل نہیں پرسوں اس سال نہیں اگلے سال اس سے زیادہ بڑھالو پچاس سال سویا دو سو سال بعد یقینا یہ باتیں جو لکھی جائیں گی پوری ہوں گی اور دنیا دیکھے گی کہ ساری حکومتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں لاڈالی جائیں گی اور دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ محمد مینی کی لائی ہوئی تعلیم (کیونکہ اصل مبداء تو آپ کی ہی تعلیم ہے) ایسی اعلیٰ اور ارفع اور مکمل ہے کہ اس پر چلنے سے انسان کو دین بھی ملتا ہے اور دنیا بھی مل جاتی ہے۔ہمارے نزدیک دنیا کی ترقی محض محم ملی علیہ و سلم کی اتباع میں ہے بادشاہوں اور جرنیلوں کی اتباع میں نہیں اور محمد من الا اللہ کا ادنیٰ سے ادنی شاگر د دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ سے افضل ہے۔دنیا کے بادشاہ اور دنیا کی حکومتیں اور سلطنتیں کبھی بھی امن اور راحت اور چین حاصل نہیں کر سکیں گی جب تک وہ خدا کے مامور کی جماعت میں شامل نہ ہوں گی۔پس یہ بیہودہ اور فضول بات ہے کہ جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں ان کا مقابلہ دنیاوی لیڈروں سے کیا جائے۔سیاسی لیڈر اپنی جگہ اچھا کام کر رہے ہیں اگر چہ ان کے بعض کاموں سے ہمیں اختلاف اور شدید اختلاف ہے مگر پھر بھی ہم سمجھتے ہیں وہ ملک کی خیر خواہی کے لئے کر رہے ہیں۔لیکن وجہ کیا ہے کہ ان کے چیلے انہیں ہمارے بزرگوں کے مقابل کھڑا کرتے ہیں اور ایسی طرف قدم اٹھاتے ہیں جس طرف انہیں اٹھانا نہیں چاہئے۔دنیا میں کون سا ایسانہی آیا ہے جسے پہلے ہی دن حکومت مل گئی ہو۔رسول کریم یا تیرہ برس مکہ میں رہے مگر کون کہہ سکتا تھا کہ وہی شخص جو مکہ کی گلیوں میں کسمپرسی کی حالت میں پھرا کرتا تھا ایک دن دنیا کا بادشاہ بن جائے گا۔حضرت مسیح ناصری کی امت واقعہ صلیب کے بعد سینکڑوں سال تک تکلیفیں اٹھاتی رہی پھر خدا نے انہیں جب حکومت دی تو اتنی لمبی حکومت دی کہ اب تک قائم ہے۔ایک وقت تھا کہ اسلامی حکومت نے عیسائی