خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 158

خطبات محمود ۱۵۸ سال ۱۹۳۱ء کہ اس کے ایک حصہ کے افعال فساد پیدا کرنے کے موجب ہوتے ہیں پولیس میں ایسے لوگ موجود ہیں اور خود پولیس کے اعلیٰ افسران اسے تسلیم کرتے ہیں۔چنانچہ غالبا بہار کے انسپکٹر جنرل پولیس نے ایک موقع پر بیان کیا تھا کہ پولیس کے ادنیٰ کارکنوں میں سے وہ شاید ہی کسی پر اعتبار کر سکتے ہوں۔اور گو ہم اس قدر وسیع ملامت نہ کر سکتے ہوں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس کے ملازموں کا ایک حصہ ضرور ایسا ہے کہ ان کا کھانا ان کا پینا ان کا اوڑھنا ان کا بچھونا ، جھوٹ اور افتراء اور دھوکا اور فریب اور رشوتیں لینا ہے۔ایسے لوگوں کے اخلاق اس درجہ گرے ہوتے ہیں کہ وہ لوگ جو ان کے ساتھ ملنے والے ہوں اور ان کی صحبت میں حظ اٹھاتے ہوں وہ بھی اچھے اخلاق والے سمجھے نہیں جاسکتے۔اس میں شبہ نہیں کہ پولیس میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور ایسے لوگ مسلمانوں میں سے بھی ہیں اور غیروں سے بھی ہندوؤں سے بھی اور سکھوں سے بھی اور انگریزوں میں سے تو بہت زیادہ کیونکہ انگریز قوم میں رشوت ستانی بہت کم پائی جاتی ہے یہی وجہ ان کی ترقی کی ہے۔وہ بعض دفعہ سفارش کو منظور کر لیتے ہیں اور لحاظ بھی کرتے ہیں مگر رشوت لینے کی عادت ان میں بہت کم ہے۔ہندوستانیوں میں رشوت لینے کی عادت بہت زیادہ ہے۔انگریزوں میں اسی طرح جھوٹ بھی کم ہے اور اسی لئے وہاں کے مقدمات کی آسانی سے تحقیق ہو جاتی ہے۔سر جان سائمن نے بھی کہا تھا کہ ہندوستان کے مقدمات میں اس قدر اینچ بیچ ہوتے ہیں کہ ہمیں حیرت آجاتی ہے۔دراصل حکومت کی وجہ سے ان میں جھوٹ اور فریب بہت کم ہے بلکہ وہ بخوشی اپنے جرم کا اقبال کرتے ہیں۔مگر ہمارے ملک میں اگر کسی کو ڈاکہ ڈالتے ہوئے بھی دیکھ لیا جائے تو وہ آگے سے یہی کہے گا یہ لوگ میرے دشمن ہیں اور مجھے پھنسانا چاہتے ہیں میں نے تو کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا۔تو ہمارے ملک کی پولیس کے ادنی کارکنوں کا اکثر حصہ ایسا خراب اور گندہ ہے کہ ان کی صحبت میں بیٹھنا بھی انسان کو خراب کر دیتا ہے۔اور چونکہ پولیس چوکی بورڈنگ کی طرح ہوتی ہے جہاں سب لوگ مل جل کر رہتے ہیں اور وہ شخص جو شریف آدمیوں سے بھی ملنے کے لئے جائے بُروں کی صحبت سے محفوظ نہیں رہ سکتا اس لئے جو لوگ ان سے ملنے والے ہیں میں انہیں تنبیہ کرتا ہوں ایسا نہ ہو وہ بعد میں کہہ دیں کہ ہمارے اخلاص پر حملہ کیا گیا ہے یا بلا وجہ ہمارے متعلق کارروائی کی گئی ہے۔اور پھر قادیان کی پولیس تو ہماری جماعت کے خلاف رہتی ہے۔خود میرے سامنے ایک آفیسر نے ایسی باتیں کیں جن سے مجھے یقین ہوتا ہے کہ وہ جماعت کے متعلق صاف دل نہیں رکھتا اور اگر