خطبات محمود (جلد 13) — Page 157
خطبات محمود ۱۵۷ سال ۱۹۳۱ء داخل کرے گا۔آخر سلسلہ کی اشاعت کی ذمہ داری تو مجھ پر ہے میں کیوں نہیں ڈرتا مجھے کامل یقین ہے کہ اگر میں ایک شخص کو بھی جماعت سے نکالوں تو خدا اس کے بدلے سینکڑوں آدمی مجھے دے گا۔میں دیکھتا ہوں کہ مستریوں کو جماعت سے نکالنے کے بعد جماعت نے اتنی جلد ترقی کی ہے کہ پچھلے سالوں میں ایسی ترقی نہیں ہوئی۔پس تم میں سے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ یوں سمجھے ہر جگہ اس کے دشمن ہیں اندرونی بھی اور بیرونی بھی۔مگر میرا مطلب یہ نہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی پر بد ظنی کرے۔مخلص شخص کی غلطی وقتی ہوتی ہے جو جوش کے وقت اس سے صادر ہوتی ہے۔لیکن منافق آدمی ہمیشہ ایسی باتیں کرتا رہتا ہے اور پھر اس کا نام اتفاق رکھتا ہے۔مخلص آدمی سے اگر کہا جائے کہ یہ باتیں ناظر اعلیٰ سے کہو یا خلیفہ وقت کے پاس جا کر کہہ دو تو وہ فورا تسلیم کرے گا۔مگر منافق کے گا میں نہیں جاتا مجھے ڈر آتا ہے اور جس وقت کوئی شخص نظام سلسلہ کی تحقیر کرے اور اعلانیہ اعتراض کرے اور جب کہا جائے کہ ذمہ دار افسروں تک بات پہنچاؤ تو وہ کہے گا کہ مجھے ڈر آتا ہے تو فورا سمجھ جاؤ کہ وہ منافق ہے۔رسول کریم مینی لی نے منافق کی ایک یہ بھی علامت بیان فرمائی ہے کہ وہ دھوکا دیتا ہے۔ورنہ خلیفہ چھوڑ اگر حق بات کہنے سے ایک نبی بھی ناراض ہو جائے تو ڈر کی بات نہیں ہوتی۔کیونکہ اس شخص کا خدا سے معاملہ ہوتا ہے لیکن اس کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ اگر میں وہاں جاؤں گا تو میرا جھوٹ کھل جائے گا۔جیسے لوگوں نے اگر کسی کو بیوقوف کہنا ہو تو کہا کرتے ہیں یہ تو بڑا بادشاہ ہے۔اسی طرح منافق بھی الفاظ تو اس قسم کے استعمال کریں گے کہ ہمیں ڈر آتا ہے مگر دراصل مقصد یہ ہو تا ہے کہ ہم اپنے جھوٹ کے افشاء سے ڈرتے ہیں۔پس میں اپنی جماعت کو عموماً اور قادیان والوں کو خصوصاً توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی نگرانی رکھیں اور ان کی حرکات تاڑتے رہیں پھر مجھے بتائیں تا ایسے منافقوں کو جماعت سے نکال کر جماعت کو محفوظ کر دیا جائے کیونکہ وہ شخص جو ارتداد اختیار کرتا ہے یا جماعت سے بوجہ نفاق علیحدہ کر دیا جاتا ہے جب وہ ہماری جماعت سے نکل جائے تو ہمارے ساتھ اس کا تعلق کم ہو جاتا ہے اور پھر اس کا ضرر بھی کم ہو جاتا ہے۔میں ان لوگوں کو بھی جو بغیر ضرورت کے پولیس کے لوگوں سے ملتے رہتے ہیں تو جہ دلاتا ہوا کہتا ہوں کہ ہم انہیں اشتباہ کی نظروں سے دیکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ ہمارے ملک کی پولیس کی حالت اتنی خراب اور ان کا طریق اتنا قابل اعتراض ہے کہ ان سے بلا وجہ ملنا عام طور پر اچھے نتیجے پیدا نہیں کرتا۔باوجود اس کے کہ پولیس ملک میں امن قائم کرنے کے لئے مقرر ہے ہم دیکھتے ہیں