خطبات محمود (جلد 13) — Page 120
خطبات محمود ۱۲۰ سال ۱۹۳۱ء ہوئے لکھتے ہیں پشاور میں آریہ سماج تو قائم ہوا۔ مگر اس کی وسعت لیکھرام سے باہر نہ تھی جن کو مرنے کے بعد دھرم کی مورتی مانا گیا۔ اور جن کے نام کے ساتھ لفظ پنڈت خود اپنے " انہیں اس وقت لیکھو " کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ مشہور ضرب آپ کو باعزت سمجھتا تھا۔ ا المثل ہے کہ مایہ تیرے تین نام - پر سو- پر سا۔ پر سرام"۔ اسی طرح کہا جاسکتا ہے کہ اپنا آپ قربان کر دینے والے لیکھرام بھی لیکھو سے لیکھرام اور پھر دھرم ویر پنڈت لیکھرام بن گئے ۔ " پھر لکھا ہے د لیکھو مهاشہ اس وقت پشاور شہر میں مائی رنجی کی دھر مشالہ میں رہتے تھے۔ اس جگہ آریہ سماج کے ہفتہ واری نہیں بلکہ روزانہ اجلاس ہونے لگے نہ کوئی نوٹس لگایا جاتا اور نہ ہی ڈھنڈورا پٹوایا جاتا۔ ویدک دھرم کا سپاہی لیکھو اپنے تین چار دوستوں کو سمجھانے بیٹھا۔ پانچ میں سے چار دوستوں کو تو سمجھا لیا اور وہ خدا خدا کہلانے سے شرمندہ ہو کر ایشور کی پناہ میں آگئے ۔ مگر پانچواں کر ہمہ اوستی تھا۔ جس نے لیکھو کو بھی ہمہ اوست کا سب کا سبق پڑھایا تھا۔ جب کسی طرح بھی قابو نہ آیا تو لیکھو" سے لیکھرام بنے ہوئے دوست نے کہا ۔ کمبخت تیری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ تب بھی ہماری خاطر سے ہی آریہ بن جا۔ مجلس احباب تو نہ ٹوٹے گی ۔ دیکھو اس کے سوانح لکھنے والا اور ان کی پارٹی کا لیڈر تو کہتا ہے کہ اس کا نام ہی لیکھو تھا۔ مگر گورنمنٹ کہتی ہے لیکھو لکھ دینے سے سخت ہتک ہو گئی اور تم نے لیکھو لکھ کر سخت جرم کر دیا۔ ایک مثل مشہور ہے کسی شخص کا نام تھا کا او۔ وہ ٹھیکیداری کرتا تھا۔ جب کچھ روپیہ پیسہ اس کے پاس ہو گیا تو اس نے اپنا نام محمد کالو رکھ لیا۔ ایک لطیفہ گو مسلمان نے یہ دیکھ کر اسے کہا کہ محمد لم کے ساتھ تو کالو کی کوئی مناسبت نہیں اگر تمہیں نام کو لمبا کرنے کا ہی شوق ہے تو ہم تمہیں تین دفعہ کالو کالو کالو کہ دیا کریں گے۔ اس طرح اگر گور نمنٹ کو یہ شوق ہے کہ لیکھو کا نام لمبا کر کے لیا جائے کی لیا جائے تو جب تک آر ارید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر قتل کا الزام لگانا نہیں چھوڑتے اس وقت تک ہم تین دفعہ لیکھو لیکھو لیکھو تو کہہ دیا کریں گے مگر لیکھرام نہیں کہہ سکتے۔ جب تک ہمارے بزرگوں کی عزت قائم نہیں ہوتی ہم بھی دوسروں کی عزت نہیں کریں گے۔