خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 119

خطبات د محمود 119 سال ۱۹۳۱ء اسے تنبیہ کر دی گئی ہے مگر وہ برابر لکھتا جارہا ہے۔اسی طرح بٹالہ سے نہایت گندے اور اشتعال انگیز اشتہار آئے دن نکلتے رہتے ہیں مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی لیکن الفضل میں لیکھو لکھ دیا گیا تو حکومت نے اس پر نوٹس لیا کہ ایسا کیوں لکھا گیا ہے حالانکہ صاف بات ہے کہ جوتی کو جوتی ہی کہا جائے گا اور لکڑی کو لکڑی اور پانی کو پانی ہی کہا جائے گا۔کوئی منظمند پانی کو جناب معلی القاب کس طرح کہہ سکتا ہے۔اسی طرح لیکھو کا نام ہی جب لیکھو تھا تو اسے اور کیا کہا جائے۔اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اس کا نام ہی لیکھو تھا میں نے چند حوالے نکلوائے ہیں جنہیں ابھی پڑھ کر سناؤں گا۔آریہ اسے شہید کہتے ہیں اور ہم بھی اس کی شہادت کے قائل ہیں کیونکہ اس کی موت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر شہادت تھی۔اللہ تعالیٰ نے کفار کی موت کا نام آیة اللہ رکھا ہے لیکھو بھی قیامت تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی شہادت دے گا اس لئے وہ بے شک شہید ہے مگر عبرت کے لئے اور لوگوں کو یہ بتانے کے لئے کہ اللہ تعالی کی گرفت کیسی ہوتی ہے۔آریہ ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر قتل کا الزام لگاتے رہتے ہیں مگر گورنمنٹ کی رگِ حمیت میں کبھی جوش نہیں آیا صرف اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں اور قانون کے مطابق عمل کرتے ہیں اس لئے اسے ہمارے احساسات کی کوئی قدر نہیں۔یا پھر اس کی یہ وجہ ہے کہ ہم اقلیت میں ہیں۔سابق گورنر پنجاب نے رو در رو بھی کہہ دیا تھا کہ ہم اقلیتوں کے احساسات کا کوئی پاس نہیں کر سکتے۔اس وقت تو میں نے اور رنگ میں جواب دیا تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کا جواب یہ بھی ہے کہ پھر حکومت کو بھی اقلیتوں سے مدد کی کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ہم جس انسان کو اپنا امام سمجھتے ہیں اور جس کی خاطر اپنی جان و مال ننگ و ناموس قربان کر دینا سعادت دارین یقین کرتے ہیں جسے ہم دنیا کا نجات دہندہ مانتے ہیں جس کا تھا کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے اور جس نے دنیا کو چیلنج دیا کہ میرے مقابل پر روحانی علوم پیش کرے اس کے مقابل میں لیکھرام کی کیا حقیقت ہے۔لیکن آر یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قاتل کہتے جائیں تو گورنمنٹ کو کوئی جوش نہیں آتا مگر لیکھو کہنے پر وہ سمجھتی ہے بہت بہتک ہو گئی۔حالانکہ اس کا نام ہی لیکھو تھا اگر اس کا نام لیکھرام ہو تا تو میں سمجھتا ہوں پھر بھی لیکھو کہنے میں چنداں حرج نہ تھا۔کیونکہ ہندوؤں میں نام کو چھوٹا کر کے پکارا جاتا ہے مگر اس کا نام ہی لیکھو تھا چنانچہ اس شہید کے متعلق جو شہادت تھا اس امر کی کہ آریہ مت خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ان کی پارٹی کے لیڈر لالہ منشی رام جو بعد میں سوامی شردھانند کے نام سے مشہور دعوئین