خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 118

خطبات محمود ۱۱۸ سال ۱۹۳۱ء کریں گے کہ ان کی حکومت کو تو گالیاں دی جائیں اور سند رسنگھ کی عزت کی جائے ۔ مگر ان کا اپنا رویہ یہی ہے کہ وہ مسلمان بادشاہوں کی ہتک پر تو خاموش رہتے ہیں مگر سیوا جی کو ڈا کو لکھنے پر نوٹس لیتے ہیں حالانکہ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ سیوا جی ایک ڈاکو تھا اور اس نے دھوکا ہے ایک اسلامی جرنیل کو قتل کر دیا ۔ پھر اگر سیوا جی باغی نہیں تھا تو بھگت سنگھ کیوں ہے ۔ اگر سیواجی کو محب وطن سمجھا جائے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ بھگت سنگھ کو پھانسی دیا جاتا۔ سیوا جی کیا تھا اپنے زمانہ کا بھگت سنگھ اور سکھد یو تھا اس سے زیادہ اس کی اصلیت کچھ نہیں گورنمنٹ اگر اس کی حمایت اور تائید کرتی ہے تو بھگت سنگھ وغیرہ کو پھانسی دینا ظلم ہے۔ اور سوچنے کی بات ہے کہ اگر انگریزوں کا باغی سزائے پھانسی کا مستحق ہے تو مسلمان بادشاہ کے باغی کی عزت کیوں کی جاتی ہے اور اگر اسے کوئی باغی یا ڈا کو کہہ دے تو اسے کیوں نوٹس دیا جاتا ہے کہ تم پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی آدمی لاٹھی لے کر کھڑا ہو گیا اور اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ اگر روٹی پکاتے وقت تمہاری کہنیاں ہمیں تو میں لاٹھی ماروں گا حالانکہ جو روٹیاں پکائے گا اس کی کہنیاں ضرور ہلیں گی اور اس پر سزا دینا کوئی عقلمند جائز نہیں سمجھ سکتا۔ اسی طرح جو ڈاکے ڈالے گا اسے ڈاکو ہی کہا جائے گا اور کوئی سمجھدار اسے قابل تعزیر قرار نہیں دے سکتا۔ دنیا میں ڈاکے ڈالنے والے کو ڈا کو ہی کہا جاتا ہے کوئی اسے ولی اللہ نہیں کہہ سکتا۔ اگر سیوا جی کو ولی اللہ کہا جائے تو بھگت سنگھ ، سکھدیو را جگور و اور غدر کے سب باغی ولی اللہ قرار پائیں گے ۔ جو گورنمنٹ سیوا جی کو باغی اور ڈاکو کہنے پر نوٹس لیتی ہے وہ گویا ملک کو تعلیم دیتی ہے کہ باغی اور ڈا کو قابل عزت ہستیاں ہیں اور اس طرح خود نوجوانوں کے اندر باغی بننے کا اشتیاق پیدا کرتی ہے۔ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ بھگت سنگھ وغیرہ باغی خود گورنمنٹ کی اس روش نے پیدا کئے ہیں کہ وہ سیوا جی وغیرہ باغیوں کی عزت کو قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے وہ اپنے عمل سے ثابت کر رہی ہے کہ اورنگ زیب کو جو چاہے کہہ لو مگر سیوا جی کی شان میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس سے بھی بڑھ کر گورنمنٹ کی غفلت شعاری کی مثال دیکھو بنگال میں ایک خبیث اور بد باطن نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو نَعُوذُ با الله ولد الزنا لکھا ہے مگر حکومت نے اس پر کوئی نوٹس وٹس نہیں لیا۔ یہاں پنجاب میں ایک شخص حضور علیہ السلام کے اخلاق اور ننگ و ناموس پر نہایت کمینہ اور دل آزار حملے کر رہا ہے گورنمنٹ کو بارہا توجہ دلائی گئی اور کئی بار کہنے کے بعد اس نے اطلاع دی ہے کہ