خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 117

خطبات محمود 114 نہ ہو اس موقع پر سب کو متفق ہو جانا چاہئے۔یہی وہ چیز تھی جس نے ابتدائی زمانہ اسلام میں باوجود مسلمانوں کے باہمی اختلافات کے انہیں نقصان سے بچائے رکھا۔حضرت معاویہ اور حضرت علی میں شدید اختلاف تھا مگر جب شاہ روم کے حملہ کا علم ہوا تو حضرت معاویہ نے انہیں لکھا اگر تم نے اسلامی ممالک پر حملہ کیا تو اگرچہ علی سے میری لڑائی ہے مگر اس کی طرف سے پہلا جرنیل جو تمہارے مقابل پر آئے گا وہ معاویہ ہو گا۔اس سے وہ ایسا ڈرا کہ مسلمانوں کی باہم پندرہ ہیں سال تک لڑائیاں ہوتی رہیں مگر اسے جرات نہ ہوئی کہ حملہ کرے حالانکہ مسلمان اس وقت اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ روم کی چوتھائی طاقت بھی انہیں مغلوب کر سکتی تھی۔اللہ تعالی کا نشاء کیا تھا اس کا تو علم نہیں لیکن ظاہری سامانوں کے لحاظ سے یہی حالت تھی مگر چونکہ ان کے اندر قومی روح زبر دست تھی اس لئے باوجود کمزوری کے دشمن خم کھاتے تھے۔آج بھی اگر یہی روح پیدا ہو جائے اور سب مسلمان مخالفوں کے مقابل پر اکٹھے ہو جائیں تو کسی کو ان پر تعدی کرنے کی جرأت نہ ہو۔مسلمانوں کے بزرگوں کی ہتک ہو تو سب متفقہ آواز اٹھا ئیں۔رسول کریم یا لیلی کی ہتک کی جائے تو اس صورت میں تو سب اکٹھے ہو ہی جاتے ہیں اگر چہ بعض ایسے بھی ہیں جو اس حالت میں بھی دیکھتے ہیں کہ کس مضمون کے جواب میں یہ بنک ہوئی ہے اور ا سوقت بھی اس قسم کے بہانے تلاش کرتے ہیں کہ اگر اپنے آدمی پر حملہ کیا جائے تو بہتر ہے۔لیکن رسول کریم کی ذات سے اتر کر اگر کسی اسلامی بزرگ پر حملہ کیا جائے تو بھی سب بیزاری کا اظہار کریں۔مسلمان بادشاہوں پر چاروں طرف سے حملے ہوتے ہیں۔سیوا جی ایک ڈاکو تھا اور اورنگ زیب ایک بادشاہ مگر اورنگ زیب پر ہر سال بیشمار حملے ہوتے ہیں مگر گورنمنٹ کی رگِ انتظام کبھی نہیں پھڑکتی لیکن سیوا جی کو ڈا کو لکھنے پر اخبارات سے نوٹس لے لیتی ہے اور مقدمہ چلانے کی دھمکی دیتی ہے۔حتی کہ امتحان کے پرچوں میں مسلم بادشاہوں کو گالیاں دی جاتی ہیں مگر گورنمنٹ کوئی نوٹس نہیں لیتی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ مسلمان شور نہیں ڈالیں گے۔اور مسلمان شور کیا ڈالیں گے جب ان کے اپنے اندر ایسے بے غیرت لوگ موجود ہیں جو خود اسکے خلاف مضامین شائع کرتے ہیں۔غرض گورنمنٹ اور نگ زیب کی ہتک پر تو کوئی نوٹس نہیں لیتی مگر سیوا جی کو ڈا کو لکھنے پر مقدمہ چلانے کی دھمکی دیتی ہے حالانکہ اس میں کیا شک ہے کہ وہ ایک باغی اور ڈاکو تھا اور ایسا ہی ڈاکو تھا جیسا سندر سنگھ وغیرہ ڈا کو گذرے ہیں۔اگر یہی سُندر سنگھ زرا اور طاقت پکڑ کر کسی ایک ضلع پر قابض ہو جاتا تو اس کی وہی حیثیت ہوتی جو سیوا جی کی تھی۔لیکن کیا انگریز اس بات کو پسند