خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 470

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء کر کھڑے ہو گئے یا وہ لعنتیں لے کر کھڑے ہو گے جو تم نے دنیا میں اس طرح کمائیں کہ تم نے ایک عورت کے لئے ایک ذلیل چیتھڑے کے لئے خدا کے دین کو برباد کیا۔پھر کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہاری یہ اولاد میں تمہارے لئے سکھ اور آرام کا موجب ہوں گی۔اگر وہ گند لے کر کھڑے رہیں گے تو ان کے برے اعمال کی وجہ سے لوگ یہی کہیں گے کہ لعنت ہو ان پر اور انکے باپ پر۔اور جانتے ہو مؤمن کی لعنت کتنی سخت چیز ہوتی ہے۔مؤمن کی لعنت نہایت ہی خوفناک چیز ہے۔ایک دفعہ رسول کریم میں بیٹھے ہوئے تھے اور صحابہ بھی پاس تھے کہ قریب سے ایک جنازہ گزرا۔لوگوں نے مرنے والے کی تعریف کی اور کہا کہ یہ بہت اچھا شخص تھا۔آپ نے فرمایا وَ جَبَتْ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کے لئے کیا واجب ہو گیا۔آپ نے فرمایا اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔پھر ایک اور جنازہ گزرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی۔آپ نے فرما جبت عرض کیا گیا یا رسول اللہ کیا واجب ہو گیا۔آپ نے فرمایا اس مرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ کا عذاب واجب ہو گیا ہے۔پھر آپ نے فرمایا جب خدا کسی کو نیک بناتا ہے تو نیک لوگوں کی زبانوں پر اس کی تعریف جاری کر دیتا ہے۔اور جب کسی پر لعنت کرنا چاہتا ہے تو نیکوں کی زبان پر اس کے لئے لعنت جاری کر دی جاتی ہے۔پھر مجھے ان لوگوں پر بھی تعجب آتا ہے جو اس فتنہ اور فساد کو دیکھتے ہیں اور اصلاح کے مدعی بن کر لڑکوں کو درست کرنے اور ان کی اصلاح کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان کی اصلاح تو کیا ہونی ہے وہ آگے سے بھی زیادہ فتنہ و فساد پیدا کر دیتے ہیں۔وہ احمق سمجھتے ہیں کہ بد معاشی کا بد معاشی سے علاج کیا جا سکتا ہے۔اور لٹھ لے کر اٹھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔گویا وہ خدائی فوجدار ہیں کہ انہی کے سپرد خدا نے لوگوں کی اصلاح کی ہے۔حالانکہ رسول کریم سے ایک دفعہ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر میں اپنی آنکھ سے اپنی بیوی کو بد کاری کرتے دیکھوں تو کیا اسے ماردوں۔آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اگر تم اسے مارو گے تو تم قاتل اور خونی سمجھے جاؤ گے۔حالانکہ اس وقت جب سوال کرنے والے نے یہ سوال کیا ایسے مجرم کے لئے سنگساری کی سزا مقرر تھی۔اور شریعت نے بھی اسے مارتا ہی تھا لیکن آپ نے فرمایا هه قانون تمہارے ہاتھ میں نہیں۔تم اگر کسی پر ہاتھ اٹھاتے ہو تو تم ظالم اور مجرم بنتے ہو۔حضرت مسیح ناصری سے ایک دفعہ لوگوں نے پوچھا تھا کہ رومی حکومت کے درو نے ہم سے ٹیکس مانگتے ہیں۔ہم انہیں ٹیکس دیں یا نہیں۔آپ نے فرمایا سکہ نکال کر دکھاؤ اس پر کس کی تصویر ہے۔سکہ پر روم کے بادشاہ کی تصویر تھی۔آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا جو رومیوں کا حق ہے۔وہ