خطبات محمود (جلد 13) — Page 469
خطبات محمود ۴۶۹ سال ۱۹۳۲ء اندھے ہو جاتے ہیں۔کیا چیز ہے تمہاری اولاد- وہ تو ایک لعنت ہے اگر وہ تمہارے لئے بد ذکر کو پیچھے چھوڑتی ہے اور کون ہے جو لعنت کا طوق اپنے لئے پسند کرتا ہے۔پھر کون ہے جو ایسی گندی اور خبیث اولاد کو رکھنے کے لئے تیار ہو سکے۔اگر تم اللہ تعالیٰ کی لعنت کو لعنت سمجھتے۔اگر تم گندی چیزوں کو گندی سمجھتے۔اگر ناپاکی کو ناپاکی سمجھتے تو بجائے ایسی اولاد کی تائید میں کھڑے ہونے کے تم اسے پھینک کر الگ ہو جاتے۔اگر تم کہتے ہو کہ تم سے یہ نہیں ہو سکتا تو تم مؤمن نہیں۔ایمان تو وہ ہوتا ہے جو حضرت ابو بکر نے دکھایا۔آپ کے ایک بیٹے شروع میں اسلام کے سخت مخالف تھے۔ایک لڑائی میں وہ مسلمانوں کے مقابل پر لڑے۔جب لڑائی ہو چکی اور کچھ عرصہ گزر گیا تو وہ مسلمان ہو گئے۔ایک دن وہ ہنس کر حضرت ابو بکر سے کہنے لگے ابا جان فلاں لڑائی کے موقع پر آپ بالکل غافل جا رہے تھے۔اور میں ایک پتھر کے پیچھے چھپا ہوا اس تاک میں بیٹھا تھا کہ کوئی مسلمان گزرے تو اسے ماروں۔اس موقع پر میں نے دیکھا کہ آپ گزر رہے ہیں۔میں نے ہاتھ روک لیا اور دل میں کہا آپ تو میرے باپ ہیں۔آپ پر حملہ نہیں کرنا چاہیئے۔حضرت ابو بکر سن کر کہنے لگے خدا کی قسم ! اگر اس وقت میں تجھے دیکھ لیتا تو وہیں ڈھیر کر دیتا۔پھر کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہاری اولادیں تمہیں خدا سے ملادیں گی۔یا کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ اولادیں تمہارے لئے سہارا ہیں یا وہ تمہارے بڑھاپے کا سہارا ہوں گی۔وہ تو تمہاری جوانی کے لئے بھی لعنت کا باعث بن سکتی ہیں۔کجا یہ کہ تمہارے بڑھاپے میں کسی کام آسکیں۔پھر مجھے حیرت ہوتی ہے کہ تم میں سے بعض اپنی بیویوں کے ڈر کے مارے اپنی اولادوں کو خراب ہونے دیتے ہیں۔اور ان کا کوئی علاج نہیں کرتے۔بلکہ نہایت بے حیائی سے کام لیتے ہوئے مجھے لکھتے ہیں کہ ہماری بیویاں سخت ہیں ہم کیا کریں۔اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر لعنت ہے تمہارے مرد ہونے پر کو تم بیویوں سے ڈر کر گمراہی کے پھیلانے کا باعث بنتے ہو۔اگر واقعی تمہاری بیوی ایسی ہی ہے۔جو تمہارے دین کو برباد کرتی ہے تو پھر کیوں تم نے ایسی خبیث عورت کو اسی وقت علیحدہ نہ کر دیا جب وہ تمہارے گلے ڈالی گئی تھی۔اور کیوں تم نے اللہ تعالیٰ کے قانون طلاق سے کام لیتے ہوئے اس گندے عضو کو کاٹ کر نہ پھینک دیا۔اگر تم نے اس وقت ایسا نہیں کیا تو ہر دن جو تمہاری زندگی میں سے گزرا اس دن تم نے اپنے گھر میں لعنت کا بیج بویا اور لعنت کے درخت کو پانی دیا۔اور تم اپنے لئے بھی اور اپنی اولادوں اور ان کی اولادوں کے لئے بھی لعنت کا باعث بنے۔کیا تم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم لے