خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 471

خطبات محمود ۴۷۱ سال ۱۹۳۲ء انہیں دو۔اور جو خدا کا حق ہے وہ خدا کو دوں۔اب غور کرو حضرت مسیح علیہ السلام تو اللہ تعالٰی کے ایک نبی ہو کر رومی بادشاہ کا حق اسے دلواتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو رومیوں کا حق ہے وہ رومیوں کو دو۔مگر تم جو نہایت ہی ادنیٰ مقام رکھتے ہو خدا کا حق چھیننے کے لئے تیار ہو جاتے ہو۔کیا اللہ تعالیٰ کی تمہاری نظر میں اتنی بھی عظمت نہیں جتنی روم کے بادشاہ کی حضرت مسیح کے حواریوں کے دل میں تھی۔پھر تمہاری کیا ہستی ہے کہ تم قانون کو ہاتھ میں لیتے ہو۔اور وہ حق جو اللہ تعالیٰ نے اپنا مقرر کیا ہے ، اسے اس سے چھینتے ہو۔پھر تم کہتے ہو کہ تمہاری اولادیں خراب ہیں اور ان کی اصلاح نہیں ہوتی۔تم پہلے اپنی اصلاح کرو۔اگر تم اپنی اصلاح نہیں کرتے تو دوسرے کی اصلاح کے لئے کس طرح مدعی بنتے ہو۔اگر وہ قرآن جسے تم الہامی کتاب تسلیم کرتے ہو دنیا کی اصلاح کے لئے آیا ہے تو تمہیں دیکھنا چاہئے کہ قرآن نے اصلاح کے کیا ذرائع مقرر کئے ہیں۔مگر یتم قرآن تو پڑھتے نہیں لیکن جس وقت تمہیں مشکلات پیش آتی ہیں ، اس وقت قرآن ہند کر کے علیحدہ رکھ دیتے ہو۔اور اپنی دماغی تدبیروں سے اصلاح کے مدعی بنتے ہو اور پھر کہتے ہو کہ ہم مصلح ہیں۔اگر تم مصلح ہو تو پھر مفسد کسی شخص کا نام ہے۔تم تو اس وقت انہی لوگوں میں شامل ہوتے ہو جن کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔اَلَّا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلِكِنْ لا يَشْعُرُونَ لي وہ لوگ ہیں جو حقیقی مفسد اور فتنہ پرداز ہیں مگر یہ سمجھتے نہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ہم مصلح ہیں۔اسی طرح تم ہو کہ تم انسانی تدبیروں سے اصلاح کے مدعی بنتے ہو۔اور اس امر کو بھول جاتے ہو کہ پہلے اپنے نفس پر موت وارد کرو پھر دوسروں کی اصلاح کر سکو گے۔غصہ اور بغض سے کبھی دوسرے کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔بلکہ دوسرے کے غم میں گداز ہو جانا اور دوسرے کے رنج میں اپنے آپ پر موت وارد کر لینا یہ چیزیں ہیں جن سے دوسروں کی اصلاح کی جاتی ہے۔اگر تمہارے دل میں لوگوں کا درد نہیں ، اگر تمہارے قلوب میں لوگوں کی ہمدردی نہیں اور اس حالت میں تم اصلاح کے لئے کھڑے ہوتے ہو تو کسی کے دل میں تمہارے لئے کیوں جذبہ محبت پیدا ہو گا۔اور کسی کے دل میں تمہارے لئے کیوں درد پیدا ہو گا۔عیب ایک بری چیز ہے اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔اور عیب اس قابل ہے کہ جس قدر جلد ہو سکے دنیا سے مٹادیا جائے۔اور ہر مؤمن کا فرض ہے کہ وہ عیوب کو مٹائے مگر اسی ذریعہ سے جو اس کے منانے کا خد اتعالیٰ نے مقرر کیا ہے نہ کہ وہ جو تمہارے نفس نے تمہارے سامنے پیش کیا ہو۔پہلی چیز جس کے ذریعہ غیب دور ہوا کرتے ہیں وہ حسنہ ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے