خطبات محمود (جلد 13) — Page 41
۴۱ 6 خطبات محمود تبلیغی سرگرمیوں میں اضافہ کی ضرورت (فرموده ۰۶ فروری ۱۹۳۱ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے پچھلے سال یہ اعلان کیا تھا کہ جو اضلاع یا جو تحصیلیں ایک ہزار نئے احمدی جماعت میں داخل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ان کے علاقہ میں ایک مستقل مبلغ رکھنے کا انتظام ہم کر دیں گے لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے اعلان ایسے موقع پر ہوا جب وقت بہت کم تھا اس لئے دوبارہ اس سال کے شروع میں میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر کوئی تحصیل ایک سال میں ایک ہزار نئے احمدی پیدا کرے تو اس کے لئے اور اگر کوئی سارا ضلع اتنی تعداد پوری کرے تو اس کے لئے ہم ایک مستقل مبلغ دیدیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت اللہ تعالٰی کے فضل اور کرم سے ترقی کر رہی ہے اور روزانہ بڑھ رہی ہے۔یہ ترقی کو ہماری امنگوں اور ارادوں کے مطابق نہ ہو مگر ہماری کوششوں سے ضرور زیادہ ہے۔یہ درست ہے کہ جتنی ہماری خواہش اور ارادہ ہے اتنی تیزی سے جماعت ترقی نہیں کر رہی لیکن جس قدر کوشش ہماری طرف سے ہو رہی ہے اس سے وہ ضرور زیادہ ہے۔ہم میں سے ہر ایک اگر اپنے نفس کے متعلق اپنے بیوی بچوں کے متعلق اپنے متعلقین اور اپنے دوستوں کے متعلق غور کرے تو معلوم ہو گا کہ ہم میں سے بہت کم لوگ حقیقی تبلیغ کی طرف متوجہ ہیں۔یوں ریل میں سفر کرتے ہوئے یا کسی اور موقع پر تبلیغی گفتگو کرنا اور بات ہے لیکن تبلیغ کا جنون بہت کم لوگوں کو ہے۔اور پھر جو روپیہ ہم تبلیغ پر صرف کرتے ہیں وہ بھی بہت کم ہے۔ہمارا بہت سا روپیہ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے اور یہ کوئی ہماری خصوصیت نہیں۔دوسری اقوام بھی اپنی تعلیم پر خرچ کرتی ہیں اس لئے یہ خرچ دینی نہیں بلکہ دنیوی ہی کہنا چاہئے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں نہ آئے ہوتے یا اگر اسلام بھی نہ ہو تا تو بھی ایک ہوشیار قوم ہونے کے لحاظ سے ہمارا فرض تھا کہ تعلیم پر روپیہ خرچ کرتے کیونکہ دنیوی