خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 276

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء جویہ دماغ خالی ہوتا ہے لیکن دشمن کے مقابلہ میں دماغ پر معارف کھلنے لگتے ہیں اس فطرتی اصل کے ماتحت مخالفت کے زمانہ میں ہماری جماعت کو اور دلیر بن جانا چاہیئے۔اگر ہم میں کوئی ایسا شخص ہے کہ وہ مصیبت اور گھبراہٹ میں گھبرا جاتا ہے تو اسے چاہئے کہ گھر میں بیٹھ جائے ہم میں اس کی جگہ نہیں ہے۔ہماری بنیاد قربانی پر ہے قربانیوں پر ہی ہماری جماعت کا وسطی حصہ ہے اور قربانی پر ہی اختتام ہے وہی لوگ اس جماعت میں آئیں جو بائیکاٹ سہنے گالیاں سننے اور ماریں کھانے کے باوجود ثابت قدم رہیں۔یہ گالیاں اور تکالیف تمام ہماری خیر خواہی کے نتیجہ میں ہیں۔پس ہمارا یہ فرض ہے کہ اس خیر خواہی کو اختتام تک پہنچائیں۔روپیہ اوقات ، عزتیں اور جائدادیں قربان کی جاسکتی ہیں مگر خدا اور اسکار سول قربان نہیں کئے جاسکتے۔یہ کہتا ہے کہ میں خدا اور خدا کے رسول میں سے کچھ لے لیتا ہوں اور کچھ چھوڑ دیتا ہوں وہ خدا اور نہا کے رسول کو نہیں پاسکتا۔اگر ہمارے کام اس غرض سے ہیں کہ ہم خدا کے لئے کرتے ہیں تو اگر ہم ذرہ بھر بھی چھوڑ دیتے ہیں تو غلطی کرتے ہیں۔پس ہمارا مقصود ایسا نازک ہے کہ جب تک ہم پوری طرح قدم نہ رکھیں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہمارا دوسرا ماحول یہ ہے کہ خدا کے رسول اور ان کی جماعتوں کے پیچھے شیطان پڑا ہوتا ہے مگر خدا کے فرشتے اس کے بندوں کے گرد آجاتے ہیں اور اس کی رحمت کی لہریں اس کے بندوں کے چاروں طرف بلند ہو جاتی ہیں۔پس جب ہم دشمن کے ماحول کو دیکھتے ہیں تو الٹی ماحول کو دیکھتے ہوئے بھی تو ہمارا فرض ہے کہ کام کریں۔یہ بات انسانی فطرت میں داخل ہے کہ جب کوئی دیکھتا ہے میرا آقا میرے پیچھے کھڑا ہے تو بلند ہمت ہو کر تیزی سے کام کرتا ہے لیکن أَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجهُ الله س کے مطابق ہمارا آقاخد اتعالیٰ تو ہمارے چاروں طرف کھڑا ہوتا ہے اس لئے ہمیں جسقدر جرأت اور حوصلہ کا اظہار کرنا چاہئے وہ ظاہر ہے۔یاد رکھو۔نفسی ذمہ داری سے قومی ذمہ داری بہت زیادہ ہوتی ہے اور اگر کوئی شخص اکیلا ہو تو اکیلا ڈوبے گا لیکن اگر اس کے ساتھ رتی سے پچاس آدمی بندھے ہوں تو وہ سب کو لے ڈوبے گا قومی کمزوریاں نفسی کمزوریوں سے بہت بالا ہوتی ہیں۔پس قربانی کرنا سیکھو اوریا درکھو کہ ذراسی غفلت خطرناک نتائج کا موجب ہو سکتی ہے۔پہلے مسیح کو لوگوں نے صلیب پر چڑھا دیا تھا مگر خدا نے دوسرے مسیح کو بھیجا کہ صلیب کو توڑ دے۔کسی فعل کا تکرار پہلی خامیوں کی اصلاح کی غرض سے ہوتا ہے۔جب ہمارے چاروں طرف خدا تعالٰی ہے تو ہمارا ایمان بڑھ جانا چاہئے۔اگر انسانی کوشش پر ہماری بنیاد ہوتی تو ہم کب کے تباہ ہو گئے ہوتے موجودہ مخالفت کیا ہے اگر اس