خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 277

خطبات محمود ۲۷۷ سال ۱۹۳۱ء سے دس کروڑ درجہ بھی بڑھ جائے ہمیں تب بھی فکر نہیں کرنا چاہیئے ہم تو خدا کے ہاتھ میں ہیں۔پچاس سال سے ہماری جماعت چلی آتی ہے اگر یہ خدا کی طرف سے نہ ہوتی تو کیا آج تک اس کے زندہ رہنے کی کوئی بھی صورت تھی۔ایک بچہ کے نزدیک سب سے مددگار اور طاقتور ہستی اس کی ماں ہوتی ہے۔ایک دفعہ کسی بادشاہ نے ایک بچہ کو چھیڑ دیا بچہ نے کہا میں اپنی ماں کو بتلا دوں گا۔لیکن ہمارا جس کے ساتھ تعلق ہے وہ ہستی خدا تعالیٰ ہے۔۱۹۱۳ء میں جب میں نے الفضل نکالا تو سید انعام اللہ شاہ صاحب گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ نے مسجد کانپور کے متعلق مضمون لکھ دیا ہے مولوی ظفر علی کہتا ہے کہ میں قلم کی ایک جنبش سے احمدیت کو تباہ کر دوں گا۔میں نے جواب دیا احمدیت تو خدا کی چیز ہے اسے کون تباہ کر سکتا ہے اس واقعہ کو پندرہ دن ہی گذرے تھے کہ ظفر علی کا پریس گورنمنٹ نے ضبط کر لیا۔اس نے پھر ہمارے خلاف لکھنے کی کوشش کی مگر دوبارہ ضبط کر لیا گیا۔جب کوئی یہ کہتا ہے کہ فلاں کام بڑا مشکل ہے تو گویا اس کا خدا پر ایمان نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ کام میں نے کرنا ہے خدا نے نہیں کرنا۔ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوئی چاہئے کہ لوگ کیا کہتے ہیں لوگوں کی مذمت یا تعریف ہمارا کیا کر سکتی ہے ہمارا ہر ایک کام خدا کے لئے ہے پس بد دل نہیں ہونا چاہئے۔ماحول اور حال کو مد نظر رکھنا چاہئے دشمنوں کی طرف سے چوکس رہو اور ساتھ ہی اپنا ایمان بھی مضبوط رکھو کہ تمہارا خدا تمہارے چاروں طرف ہے اللہ تعالی ہماری جماعت کو توفیق دے کہ اسے نہ تو کوئی کام بہت چھوٹا نظر آئے اور نہ ہی بہت مشکل نظر آئے۔(الفضل یکم دسمبر ۱۹۳۱ء) له رساله الوصیت صفحه ۵ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۳ نه متی باب ۱۰ آیت ۳۴ بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ء ( مفہوماً) البقرة : ١١٦