خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 259

خطبات محمود ۲۵۹ سال ۱۹۳۱ء نہیں کیونکہ قدرت نے اسکے اندر یہ استعداد ہی نہیں رکھی۔لیکن انسانی دماغ کے اندرچو نکہ خدا تعالیٰ نے مختلف قابلیتیں رکھی ہیں اسلئے اگر کوئی ایک چیز پیدا نہ کر سکے تو وہ یقیناً ناقص سمجھا جائے گا۔انسان ایک عالم صغیر کی مثال ہے ہم اگر ایک گلاس ہاتھ میں لیں تو آئینہ بے شک ہمارے ہاتھ نہیں ہو گا لیکن یہ ہمارے ہاتھ کا نقص نہیں سمجھا جائے گا۔لیکن اگر ہم ایسی تصویر لینا چاہیں۔جس میں گلاس اور شیشہ دونوں آنے چاہیں۔اور پھر ایک آجائے اور دوسری نہ آئے تو یہ تصویر کا نقص ہو گا کیونکہ ہمار انشاء یہ تھا کہ دونوں چیزیں آئیں۔تو جس دماغ میں ساری قابلیتیں نہ ہوں وہ ناقص ہو گا کیونکہ اس کے اندر ہر قسم کی قابلیتیں ہونی چاہئے تھیں اگر صحیح نشود نما اور تربیت کی جائے تو اچھا زمیندار اچھا تاجر اور اچھا تاجر اچھا زمیندار بن سکتا ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ ہمارے علاقہ کی بعض زمینوں میں گیہوں ، کپاس، ماش وغیرہ مختلف اجناس پیدا کرنے کی طاقت موجود ہے لیکن اگر ہم صرف گیہوں کا بیج ڈالیں تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ زمین میں ماش ہو ہی نہیں سکتا۔اگر ہم ماش کا بیج ڈالتے تو وہ بھی یقینا ہو جاتا۔ایک اچھا لوہار اگر ترکھان کے پاس کام سیکھنے کے لئے بٹھا دیا جاتا تو اس کے اندر یہ قابلیت تھی کہ وہ اچھا بڑھئی بن سکتا لیکن یہ کام سیکھنے کا اسے موقع نہیں ملا اس لئے اس کی قابلیت اس میں پیدا نہ ہوئی۔میری غرض اس بیان سے یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے انسان کے اندر ساری قابلیتیں رکھی ہیں تو کامل جماعت وہی ہو سکتی ہے جو ساری قابلیتوں کو ظاہر کرے اور ان سے کام لے۔وہ لوگ جو قابلیتوں کے دائرہ کو بغیر کسی مجبوری کے محدود کر دیتے ہیں وہ کامل نہیں کہلا سکتے۔ہم جب رسول کریم میم کی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں وہ سب نبیوں سے اعلیٰ ہیں تو اس کا ثبوت یہ دیتے ہیں کہ آپ انسانی زندگی کے ہر پہلو میں بہترین نمونہ ہیں۔پہلے انبیاء میں سے بعض ایسے تھے جن کی بیویاں نہ تھیں اس لئے وہ متاہل زندگی کے متعلق کوئی راہنمائی نہیں کر سکتے مگر آپ کی بیویاں تھیں اس لئے پ اس پہلو میں بھی بہترین نمونہ ہیں۔پھر بعض کے بچے نہ ہوئے مگر آپ کے بچے ہوئے اور ان میں سے کئی آپ میں اور ملک کے سامنے فوت ہوئے اس پر آپ نے صبر کا بہتر نمونہ دکھایا غرضیکہ آپ کے اندر جمیع کمالات تھے۔آپ جرنیل تھے، سیاست دان تھے ، غریب پرور تھے اور پھر اعلیٰ درجہ کے امراء کو بھی قابو میں رکھنے والے تھے ، حفظان صحت کے اصول میں بھی اعلیٰ بیان کرنے والے تھے اور اقتصادی زندگی کے لئے بھی بہترین قوانین بنانے والے تھے ، آپ مقنن بھی تھے اور قاضی بھی ، آپ نے غربت اور امارت سب حالتوں میں بہترین نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔