خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 258

خطبات محمود ۲۵۸ سال ۱۹۳۱ء طرح یہ سارا عالم آنکھ مچولی کی کھیل نظر آتا ہے جسے پنجابی میں ممکن میچی " کہتے ہیں ایک حصہ پوشیدہ مقامات کو تلاش کر کے وہاں قیام کرتا ہے اور دوسرا اسے کھینچ کر باہر لاتا ہے یہ کھیل پورے شدو مد سے جاری ہے۔اور اگر کبھی انسان یہ خیال کرے کہ سارے اسرار اب ظاہر ہو چکے ہیں تو دنیا نے اسرار کے ساتھ سامنے آجاتی ہے اور اگر دنیا کہتی ہے کہ اب اسرار کو ظاہر کرنے والا کوئی نہیں تو انسان انہیں نگا کر کے رکھ دیتا ہے۔یہ لامتناہی سلسلہ ہے جب ہم اس نظارہ کو دیکھتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو خداتعالی نے بائیبل کے الفاظ میں اپنے جیسا اور اپنی شکل پر پیدا کیا ہے اور قرآنی اصطلاح میں تعبد اپنے تقدس کے اظہار اور اپنی صفات کو ظاہر کرنے والا بنایا ہے۔ایسے وجود کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ صرف ایک ہی کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے نادانی ہے۔اگر اسے ایک ہی کام کے لئے پیدا کیا جا تا تو قابلیت بھی ایک ہی قسم کی اس کے اندر ودیعت کی جاتی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے اندر ہزاروں قابلیتیں ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ ماحول سے متاثر ہو کر یا عادات کی وجہ سے یا طبعی میلانات کے باعث وہ بعض چیزوں کو بعض پر ترجیح دے لیتا ہے۔مگر جس طرح بعض علاقوں کی زمینوں کی یہ حالت ہے کہ وہ بعض اجناس پیدا کر سکتی ہیں اور بعض نہیں انسانی دماغ کی یہ حالت نہیں۔مثلاً بعض ممالک میں گنا نہیں ہوتا۔اور بعض میں گندم نہیں ہوتی اسی طرح زعفران ہر ملک میں نہیں ہو سکتا یہی حال زیرہ الانچی وغیرہ کا ہے یہ تو زمینوں کا حال ہے۔مگر انسانی دماغ کو خدا تعالٰی نے ایسا بنایا ہے کہ سوائے پاگل کے یا چوٹ وغیرہ کے باعث کسی قسم کا نقص پیدا ہو جانے کے وہ ہر قسم کی کھیتی پیدا کر سکتا ہے یہ تو ممکن ہے کہ بعض مخصوص حالات کی بناء پر ایک چیز ناقص پیدا ہو اور دوسری اچھی۔مگر ہو سب سکتی ہیں اور سب کو اگانے کی استعداد اس کے اندر رکھی گئی ہے فرق صرف یہ ہے کہ ایک بچے کو لیٹریری لوگوں کی صحبت میسر آتی ہے اور اسے زبان دانی کا چسکا پڑ جاتا ہے اس لئے وہ ادبی قابلیت میں بڑھ جاتا ہے اور حساب میں کمال حاصل کرنے سے محروم رہ جاتا ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اس کا دماغ حساب دانی کی اہمیت نہیں رکھتا۔اگر ادبی مذاق رکھنے والوں کی بجائے اسے حساب دانوں میں رہنے کا موقع ملتا تو وہ علم ادب کی طرف توجہ کرنے کی بجائے حساب میں منہمک ہو جاتا اور اس میں کمال حاصل کر لیتا۔ہاں اس کے لئے مستثنیات بھی ہیں اور بعض وجو د ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی قابلیتیں ہی محدود ہوتی ہیں مگر یہ نقائص ہیں۔ایک زمین میں گنا پیدا ہوتا ہے اور دوسری میں روئی لیکن روٹی والی کا کتنا پیدا نہ کر سکتا اس کا نقص