خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 260

خطبات محمود ۲۶۰ سال ۱۹۳۱ء اب یہ سب باتیں اگر خوبیاں نہیں تو رسول کریم میں لال لال ہے ان سب کے پائے جانے سے بہترین اور کامل ترین انسان کیسے بن سکتے ہیں۔اگر امارت میں اعلیٰ نمونہ دکھانا اپنی ذات میں خوبی نہیں تو آپ کے لئے یہ کیسے خوبی بن گئی۔اگر اعلیٰ درجہ کا جرنیل، اعلیٰ درجہ کا مقنن ، اعلیٰ درجہ کا قاضی اور اعلیٰ درجہ کا سیاست دان ہو تا خوبیاں نہیں تو رسول اللہ مل مل کے لئے یہ خوبیاں کیسے بن گئیں لیکن ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ سب خوبیاں ہیں اور اعلیٰ درجہ کا کامل انسان وہی ہو سکتا ہے جس میں یہ ساری باتیں اعلیٰ درجہ کی پائی جائیں کیونکہ اگر ان سب کا پایا جانا خوبی نہ ہو تو مجھ میں ہم کو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی پر کیونکر فضیلت دی جاسکتی ہے۔جس دلیل سے ہم آپ کو سب انبیاء سے افضل قرار دیتے ہیں وہی ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کے سارے اچھے کام خواہ وہ دینی ہوں یا دنیوی ہماری توجہ کے محتاج ہیں۔جب ہم رسول کریم یا ل ا ل کے کمال کا اظہار کرتے ہیں تو یہ نہیں کہتے کہ آپ خدا تعالیٰ کی عبادت بہت کیا کرتے تھے بلکہ یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ عبادت الہی کے ساتھ آپ کے اندر شفقت علی الناس بھی تھی کیونکہ صرف عبادت کرنے سے کوئی شخص افضل نہیں ہو سکتا۔یا اگر ہم یہ کہیں کہ رسول کریم میں عالمی جنگ و جدال سے اجتناب کرتے تھے تو ممکن ہے کوئی اعتراض کر دے کہ کیا پتہ بزدل ہوں لیکن ہم یہ نہیں کہتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ آپ رحم کرنے والے تھے اور رحم تبھی ثابت ہو سکتا ہے جب بہادری ثابت ہو۔بہادر انسان ہی رحم کر سکتا ہے اور جو اپنی طاقت تسلیم کرانے کے بغیر رحم کا دعوی کرے وہ بزدل ہوتا ہے۔پس اگر بہادری دکھا کر رحم کرنا خوبی کی بات ہے تو ہم صرف رحم کر کے کس طرح تحسین کے مستحق ٹھر سکتے ہیں۔ہم میں سے ایک شخص اگر بڑا نمازی ہو تو یہ بے شک ایک خوبی ہے لیکن وہ کامل نہیں کہلا سکتا۔کامل اسی وقت سمجھا جائے گا جب ہر طرف اس کی نگاہ ہو۔ایک صحابی یا شاید تابعی سے کسی نے سوال کیا کہ کیا آپ تقویٰ کی تعریف کر سکتے ہیں۔انہوں نے فرمایا تقویٰ اس کا نام ہے کہ انسان ایسے رستہ پر چل رہا ہو جہاں چاروں طرف کانٹے ہوں اور اس نے ڈھیلا ڈھالا جبہ پہن رکھا ہو پھر وہ دامن بچا کر نکل جائے اسی طرح مومن دنیا کے ہر کام میں ہاتھ ڈالتا ہے اور سلامت نکل آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے مومن کی مثال تو یہ ہونی چاہئے کہ دست در کار دل بایار - مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بعض دوستوں نے نیکی کے معیار کو غلط سمجھ رکھا ہے۔دین کے لئے چندہ ادا کر کے اور نمازیں پڑھ کر وہ سمجھتے ہیں ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔دوسروں سے ملنا جلنا ان سے تعلقات رکھناوہ ضروری