خطبات محمود (جلد 12) — Page 418
خطبات محمود ۴۱۸ سال ۱۹۳۰ء اس کا کام ہی یہ ہے اس طرح کوئی شخص حق کے اظہار کی وجہ سے ہم پر بھی اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ہمارا پیشہ ہے اس لئے جسے ہم مفید سمجھیں فرضِ منصبی کے لحاظ سے ضروری ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچادیں۔اگر ہماری باتیں غلط ہیں تو پھر ہمارے مخالفین کے لئے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ ان باتوں کو سن کر لوگ خود ہی رد کر دیں گے۔لیکن اس حق سے ہمیں محروم نہیں کیا جا سکتا کہ جس طرح وہ اپنے خیالات کی اشاعت کرتے ہیں اُس طرح ہم بھی کریں۔آزادی وطن حاصل کرنے والے آزادی کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے ہیں لیکن یہ امر آزادی کے منافی نہیں ہو گا کہ وہ ہم سے محض اس وجہ سے جھگڑیں کہ ہماری رائے ان کے خلاف ہے انہیں تو چاہیئے کہ اعلان عام کر دیں کہ جو شخص ان کے خیالات کے خلاف رائے رکھتا ہو وہ آئے اور اسے پیش کر کے اس کی معقولیت ثابت کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو تحریک کی کہ ایسے جلسے منعقد کئے جائیں جن میں ہر شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے۔آپ نے یہ نہیں کہا کہ چونکہ میں خدا تعالی کی طرف سے مامور ہوں اس لئے باقی سب لوگ اپنے اپنے مذہب کی تبلیغ بند کر دیں۔لیکن اگر آپ کا نگریس کی پالیسی اختیار کرتے تو کہتے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں تم سب کو نگے ہو جاؤ مگر نہیں آپ نے ایسا نہیں کیا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ باقی لوگوں کو بھی تبلیغ کا ویسا ہی حق ہے جیسا مجھے۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ تم اپنی بات پیش کرو میں اپنی بات پیش کرتا ہوں اور جب تک یہ طریق نہ پیش کیا جائے امن کبھی نہیں ہو سکتا اور حق نہیں پھیل سکتا۔دنیا میں کون ہے جو اپنے آپ کو حق پر نہیں سمجھتا لیکن جب خیالات میں اختلاف ہو تو ضروری ہے کہ اسے ظاہر کرنے کا موقع دیا جائے۔پس کانگریس کو چاہئے کہ اعلان کرے کہ ہم ایسے جلسوں کا انتظام کرتے ہیں اور مخالف رائے رکھنے والے آ کر اپنی اپنی رائے کا اظہار کریں۔ہم نے تو کئی بار اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جو لوگ ہماری رائے کو غلط سمجھتے ہیں وہ آئیں اور ہمارے سٹیج پر کھڑے ہو کر تقریریں کریں۔یہ نہیں کہ ہر ایرے غیرے کے لئے بلکہ اگر معقول اور بارسوخ لیڈر آئیں تو ہم ان کی تقریر کے لئے جماعت کو اکٹھا بھی کر سکتے ہیں اور میں خود بھی ان کے خیالات سنوں گا اور اگر ان کی بات معقول ہو گی تو ہمیں اس کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہو گا۔اور اگر وہ ہمارے خیالات کو معقول سمجھیں تو ان کا بھی فرض ہے کہ آزادی کے ساتھ ہماری اتباع