خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 417

خطبات محمود سال اپنے آپ کو تبلیغی جماعت کہتے ہیں اور تبلیغی جماعت کے معنے ہی یہ ہیں کہ جسے ہم صداقت سمجھیں اسے دنیا میں پھیلائیں۔پس جب ہم تبلیغ بطور پیشہ اختیار کر چکے ہیں تو لازماً جو بات ہمیں سچ نظر آئے گی وہ دوسروں تک ضرور پہنچائیں گے۔اگر ایک شخص کا کام ایسا ہو کہ اسے زیادہ عرصہ چُپ ہی رہنا پڑے تو وہ بے شک خاموش رہے گا لیکن جس کا کام بولنے کا ہے وہ بعض اوقات بے موقع بھی بول پڑے گا اور بر موقع خاموش تو وہ رہ ہی نہ سکے گا۔اسی طرح جس جماعت نے صداقت پھیلانی ہو اپنے بھائیوں کو غلط راہ سے بچا کر سلامتی کی راہ پر چلانا ہو اُس کا صرف یہ ہی فرض نہیں کہ مذہبی طور پر انہیں ہر قسم کے خطرات سے بچانے کی کوشش کرے بلکہ اُس کا یہ بھی فرض ہے کہ اگر سیاسی طور پر اس کے بھائی تباہ ہو رہے ہیں تو اس میں بھی ان کی مدد کرے۔پس ہم مجبور ہیں کہ لوگوں سے تعلق رکھنے والے امور کے متعلق اپنا خیال ظاہر کریں۔جس مذہب میں ہم داخل ہیں اور جس پر چلنے کا ہمیں فخر حاصل ہے وہ موقع پر خاموش رہنے والے کو شیطان أخرس قرار دیتا ہے یعنی جو شخص موقع پر حق بات کہنے سے باز رہے وہ شیطان اور پھر گونگا شیطان ہے پس یہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم حق اور بھلائی کی بات نہ کہیں اور اپنے بھائیوں کو تباہ ہونے دیں۔اگر زید کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی رائے جو ہمارے خلاف رکھتا ہے دنیا میں پھیلائے تو ہمیں کیوں یہ حق نہیں کہ اپنی صحیح رائے جو اس کے خلاف ہے لوگوں تک پہنچائیں۔پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم سیاسیات میں کیوں دخل دیتے ہیں ان کے لئے میرے تین جواب ہیں۔اول یہ کہ ہم اپنا کام کر رہے تھے تم نے ستایا دق کیا اور بار بار اعتراض کئے کہ تم کیوں خاموش ہو اس لئے ہم مجبور ہو گئے کہ اپنی صحیح رائے کا اظہار کر دیں۔دوسرے یہ کہ ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان کے ہر حصہ اور بیرونی ممالک میں بھی پھیلی ہوئی ہے اور ان میں سے کئی ایک ایسے دوست ہیں جنہیں سالہا سال قادیان آنے کا اتفاق نہیں ہوتا اس لئے ضروری ہے کہ ان کی راہنمائی کے لئے ہم اپنے نیز بیرونی پریس کے ذریعہ بھی ملکی امور کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں اور انہیں مناسب ہدایات دیں۔تیسرے یہ کہ ہم مبلغ ہیں اور ہمارا پیشہ یہی ہے کہ جو بات حق سمجھیں اسے دنیا میں پھیلا ئیں۔جس طرح کوئی شخص کسی ڈاکٹر کو نہیں کہہ سکتا کہ تم لوگوں کا علاج کیوں کرتے ہو کیونکہ