خطبات محمود (جلد 12) — Page 419
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء کرنے لگ جائیں۔یہ کہنا کہ تم ہمارے مخالف ہو اور دشمن ہو یہ شکست خوردہ لوگوں کا طریق ہے۔اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کسی کو سونٹے سے منوانے کی کوشش کرنا اور کوئی شریف اور باغیرت انسان سونے سے کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔یہ خیال غلط ہے کہ ہماری جماعت چونکہ بہت تھوڑی ہے اس لئے اگر ایسی زبردست تحریک کے مقابلہ میں اُٹھے گی تو نقصان اُٹھائے گی جو قوم مرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے اسے کوئی نہیں مار سکتا۔مرتی وہی قوم ہے جو زندگی سے پیار کرتی ہے جو لوگ موت کو آسان سمجھتے ہیں انہیں دنیا سے کوئی نہیں منا سکتا۔وہ اپنے اندر ایسی طاقت رکھتے ہیں جو بڑھتی ہے لیکن گھٹتی نہیں۔پس ان حالات میں اگر ہم دخل دیتے ہیں تو کسی کا حق نہیں کہ ہم سے ناراض ہو بلکہ ملک کے امن کے لئے ضروری ہے کہ ہر قسم کے خیالات کا اظہار ہو۔میں جب ولایت سے آیا تو گاندھی جی سے تبادلہ خیالات کا انتظام کیا انہوں نے بڑی مہربانی کی۔وہ دتی میں تھے لیکن بمبئی آگئے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کا نگریس کمیٹی کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کہتے ہیں اور آل انڈیا میں ہم بھی شامل ہیں لیکن کانگریس میں ہمیں نہیں لیا جاتا۔ہم بھی ویسے ہی ہندوستانی ہیں جیسے آپ پھر کیوں ہمیں کانگریس میں شامل نہیں ہونے دیا جاتا اس صورت میں کانگریس آل انڈیا نہیں کہلا سکتی اگر سو میں سے ننانوے شامل اور صرف ایک باہر ہو تو بھی یہ آل انڈیا نہیں کہلا سکتی مگر یہاں تو یہ بات سرے سے ہی غلط ہے کہ اس میں نانوے فیصدی شامل ہیں۔لیکن اگر ہوں تو بھی ایک فیصدی کا حق ہے کہ کہے جب تک مجھے شامل نہ کیا جائے یہ تمام ملک کی نمائندہ نہیں کہلا سکتی اس لئے ہر شخص کو کانگریس میں داخل ہونے کی اجازت ہونی چاہئے اور معاملات کا تصفیہ کثرت رائے سے کیا جانا چاہئے۔اختلاف ہر ملک میں موجود ہوتا ہے اور ہر قوم میں لوگ مختلف الخیال ہوتے ہیں۔انگلستان میں ہی دیکھو کبھی کنزرویٹو (CONSERVATIVE) اقتدار پکڑ جاتے ہیں کبھی لبرل اور کبھی لیبر رلیکن یہ کبھی نہیں ہوا که مقتدر جماعت دوسروں کو پارلیمنٹ میں داخل نہ ہونے دے بلکہ وہ سب اکٹھے بیٹھ کر ہر معاملہ پر غور کرتے ہیں اور کثرت رائے پر عمل کرتے ہیں۔اور اس صورت میں جو پارٹی بر سر اقتدار ہو وہ دوسری جماعتوں کے ٹیکس بھی اپنے حسب منشاء وصول اور خرچ کرتی ہے اسی طرح کا نگریس میں بھی جن لوگوں کی اکثریت ہو وہ دوسروں کا روپیہ بھی اپنے حسب منشاء خرچ