خطبات محمود (جلد 12) — Page 226
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء حالت بھی اپنے اندر ایک خاص لطف رکھتی ہے۔تو اکٹھی نعمتوں کا ملنا کوئی فائدہ نہیں رکھتا فائدہ تدریج اور تواتر سے ہی ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اگر کوئی نعمت اکٹھی مل جائے تو وہ قابلیت کے مطابق نہیں ہوگی۔بچہ کو اگر فلسفہ کے علوم پڑھانے کی کوشش کی جائے تو اسے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا فائدہ اسی سے ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ راسخ اور جذب ہو۔اگر ایک شخص کے سر پر ایک ہی دن تیل کی ایک بوتل انڈیل دی جائے یا اسے دو سیر گھی یکدم کھلا دیا جائے تو اسے کچھ فائدہ نہیں ہو گا لیکن ہر روز اس کی طبیعت کے مطابق اسے تھوڑا تھوڑا کھلانے سے مفید ثابت ہوگا۔میری غرض اس تمہید سے یہ ہے کہ انسان ہر وقت یہ سمجھے کہ اس کی موجودہ حالت انتہائی نہیں بلکہ ایک کڑی ہے لمبی زنجیر کی۔اگر یہ حالت عذاب کی ہے تو بھی ایک کڑی ہے جس کے بعد دوسری کڑی آئے گی پھر تیسری اور چوتھی حتی کہ اس کے لئے پیچھے ہٹنا مشکل ہو جائے گا۔اگر گناہ کی حالت ہے تو بھی ایک کڑی ہے۔اگر علم عرفان یا زندگی ہے تو یہ بھی ایک لمبے سلسلے کی کڑی ہے۔پس انسان کو کبھی بھی موجودہ حالت کے متعلق مطمئن نہیں ہونا چاہئے خواہ وہ حالت انعام کی ہو یا سزا کی ہر حالت میں ایک تسلسل ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب کئی قسم کے عذاب آئے تو بعض نادان کہتے یہ معمولی بات ہے دنیا میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے مگر وہ یہ نہ سوچتے تھے کہ یہ ایک لمبے سلسلہ کی کڑیاں ہیں جس کے بعد اور آئیں گئے اور پھر آئیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا جب معمولی عذابوں سے لوگوں نے اصلاح نہ کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار کیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے دعویٰ کے وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی اب اس سے بہت زیادہ گر چکی ہے۔کئی حکومتیں اُس وقت آزاد تھیں مگر اب وہ ما تحت ہیں اُس وقت ان کے قدم مضبوط تھے مگر اب کمزور ہیں انہوں نے یہ نہ خیال کیا کہ ہر چیز تدریجا آتی ہے اور یہ نہ سوچا کہ ابھی عذاب کے کتنے درجے باقی ہیں اور یہ بھی کیا معلوم ہے کہ موجودہ حالت انتہائی ہے اور اس کے بعد اور درجہ نہیں۔جس طرح خدا تعالیٰ خود غیر محدود ہے اسی طرح اس کی ہر شئے غیر محدود ہے۔بہت سے نادان کہہ دیا کرتے ہیں ہم نے جتنے دُکھ دیکھے ہیں ان سے زیادہ دیکھ دنیا میں اور کیا ہوں گے۔وہ سمجھتے ہیں دکھوں کے متعلق جتنا علم انکا ہے اتنا ہی خدا تعالیٰ کا بھی ہے۔" انسان کی یہ بھی ایک غلطی ہے کہ وہ اپنے دکھ کو بڑا اور دوسرے کے دکھ کو چھوٹا سمجھتا ہے حالانکہ وہ جس دکھ میں مبتلاء ہوتا ہے اس کا عادی ہو جانے کی وجہ سے اس کی شدت کم محسوس کرتا