خطبات محمود (جلد 12) — Page 227
خطبات محمود ۲۲۷ سال ۹ ہے اگر دوسرے کا دکھ جو اسے کم معلوم ہوتا ہے اسے دیدیا جائے تو اسے بہت زیادہ تکلیف محسوس ہو۔ہمارے ملک کے ایک ادیب نے ایک قصہ میں اس کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے کہ حشر کا میدان ہے سب لوگ اکٹھے ہیں اور انہیں اجازت دی گئی ہے کہ اپنے دکھوں میں سے جو چاہو پھینک دو اور اس کے بدلہ میں جو چاہو لے لو۔کسی کی ٹانگ میں در دتھا تو اس نے سمجھا سر درد والا چل پھر تو سکتا ہے میری طرح بستر پر تو نہیں پڑا رہتا مجھے ٹانگ کی تکلیف کی بجائے سر درد لے لینا چاہئے۔جس کے سر میں درد تھا اس نے سوچا ٹانگ درد والا آرام سے لیٹ تو سکتا ہے اس کے دماغ کو تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اس لئے مجھے سردرد پھینک کر ٹانگ درد لے لینا چاہئے۔غرضیکہ ہر ایک نے اپنے دکھ کو اس سے جسے وہ کم سمجھتا تھا بدل لیا۔مگر پہلے عذابوں کے چونکہ وہ عادی ہو چکے تھے اس لئے بہت کم محسوس کرتے ہیں لیکن نیا عذاب بدلنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک کو تکلیف زیادہ محسوس ہونے لگی اور چیخ و پکار سے ایک گہرام مچ گیا۔ڈاکٹروں کا بھی یہی خیال ہے کہ CHRONIC بیماریوں کی تکلیف کم ہوتی ہے اور ACUTE کی بہت زیادہ کیونکہ CHRONIC کے مقابلہ کا جسم عادی ہو چکا ہوتا ہے۔اگر انسان یہ خیال کرے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں جس میں میں گرفتار ہوں تو بھی اسے اتنا تو سمجھنا چاہئے کہ کم از کم خدا اس کے دکھ کو دوسرے دکھ سے تبدیل تو کر سکتا ہے اور اس تبدیلی سے بھی تکلیف بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے حالانکہ یہ خیال غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس نئے عذاب نہیں۔ہمیشہ دنیا میں نئے نئے عذاب آتے رہے اور نئی نئی بیماریاں بھی نکلتی رہتی ہیں۔یہی حال انعامات کا ہے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اسے جو انعام ملا وہ انتہائی ہے اور اب اس کی حالت میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں۔ممکن ہے وہ اس سے نیچے ہی گر جائے اس لئے انسان کو کبھی موجودہ حالت پر مطمئن نہیں ہونا چاہئے۔انعام ہو یا سزا اس کے متعلق یہ خیال کرنا کہ انتہائی ہے نادانی ہے کیونکہ اسے کم یا زیادہ کر دینا بھی خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اگر وہ انتہائی بھی ہو تب بھی وہ کم تو ضرور ہو سکتا ہے۔غرض ہر چیز خدا تعالیٰ سے تدریجا آتی ہے تا اسے دوسروں کے لئے عبرت کا موجب بنائے۔لیکن انسان کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ دوسرے کے لئے عبرت کا موجب ہونے کی بجائے وہ ان کے لئے تعلیم کا موجب بنے۔اللہ تعالیٰ نے ہر بندہ کو کسی نہ کسی پہلو سے دوسرے کا استاد بنا یا ہے۔کوئی اپنے عمل سے