خطبات محمود (جلد 12) — Page 225
خطبات محمود ۲۲۵ سال ۱۹۲۹ء لیکن یہ خوشی اُس زمیندار کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھے گی جسے ہر سال کافی مقدار میں غلہ مل جاتا ہے کیونکہ جو مزا پہلے کو ایک بار ملا زمیندار کو بار بار اور ہر سال ملے گا۔اسی طرح اگر کسی سے پوچھو کہ تمہارے لئے یہ بہتر ہے کہ تمہیں تمہارے دوست کے پاس دس پندرہ روز کے لئے متواتر دن رات رہنے دیا جائے یا ہر روز دس پندرہ منٹ کے لئے اس سے ملاقات کرائی جائے تو وہ یہی پسند کرے گا کہ اسے روز کچھ وقت کے لئے یہ مزا ملتا ر ہے بجائے اس کے کہ ایک ہی دفعہ اکٹھا مل جائے اور پھر ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے۔تو نعمت کا تدریجاً اور بار بار ملنا اپنی ذات میں ایک نعمت ہے۔طالب علم جب مدرسے میں ایک ایک لفظ پڑھتا اور ایک ایک سبق یاد کرتا ہے تو اس سے جو سرور اسے حاصل ہوتا ہے وہ اکٹھے علم حاصل کر لینے سے نہ ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ روحانی نعمتیں بھی اکٹھی نہیں ملتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام روحانی علوم ایک دن میں حاصل نہیں ہو گئے تھے بلکہ یہ نعمت آپ کو شروع بعثت سے لیکر وفات تک برابر ملتی رہی۔تو خدا تعالیٰ کے فیوض اور عرفان کا لطف بھی تدریجاً اور بار بار ملنے میں ہی آتا ہے۔اگر سارا قرآن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ہی دن نازل ہو جاتا تو باقی زندگی خدا تعالیٰ کے ساتھ ہم کلام ہونے کے شرف سے خالی رہتی۔پس آپ کو چیز تو وہی ملی جو اکٹھی بھی مل سکتی تھی لیکن درجہ بدرجہ ملی جس سے ہر روز ایک نیا لطف حاصل ہوتا تھا۔اسی طرح قابلیت کی حالت ہے کوئی دانا شخص بچہ کی جھولی میں اتنی چیز نہیں ڈالے گا جسے بچہ سنبھال نہ سکے۔اگر ایک شخص کو کپڑوں کے سو یا دو سو جوڑے اکٹھے ہی بنوا دیئے جائیں تو یہ اس کے لئے ایک مصیبت ہو جائے گی کہ انہیں سنبھالتا رہے اور اس سے اسے کبھی وہ مزا نہیں آئے گا جو ہر سال نئے بنانے میں آسکتا ہے۔پھر اکٹھی چیز سے انسان بسا اوقات فائدہ بھی نہیں اٹھا سکتا۔اگر کسی کو دس من آٹے کی روٹیاں ایک ہی دن پکا کر دیدی جائیں تو وہ ضائع ہی جائیں گی۔اسی طرح اگر خدا تعالی سارے سال کی بارش ایک ہی دن اُتار دے تو لوگ تباہ ہو جائیں اور اگر وہ کوئی ایسا قانون قدرت بنادے کہ تباہ نہ بھی ہوں تو بھی اس کا کوئی لطف نہ رہے گا کیونکہ بارش کا نزول بھی اپنے اندر ایک لطف رکھتا ہے جس سے تر و تازگی اور نئی روح پیدا ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے جب بوندیں پڑنی شروع ہوں تو بچے خوشی سے اچھلنے کودنے اور گیت گانے لگتے ہیں اور خود ہی الفاظ ملا کر شعر بھی بنا لیتے ہیں گویا اچھے خاصے شاعر بن جاتے ہیں۔غرض بارش کے برسنے کی