خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 123

خطبات محمود ۱۲۳ سال ۱۹۲۹ء میں اپنی جماعت سے پوچھتا ہوں اگر ایسی حالت میں دہر یہ بھی خدا کو پکارتا ہے تو وہ جماعت جو خدا تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کیلئے کھڑی ہوئی ہے جس کا دعوی ہے کہ ہماری ساری قوت ساری طاقت اور سہارا خدا ہی کے سامنے جھک جانے میں ہے اسے کیا کرنا چاہئے۔ہماری جماعت کمزور ہے اور دشمن قومی ہمارے پاس اس کے مقابلہ کے لئے نہ آدمی ہیں نہ طاقت اور نہ ہی کوئی اور ذریعہ اس واسطے ہمارا ایک ہی کام ہونا چاہئے کہ خدا کے سامنے جھک جائیں اور کہیں إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ وقت کی نزاکت اور شیطانی حملہ کی شدت کا پوری طرح احساس کرے اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگنے کیلئے اس کے سامنے مجھک جائے کیونکہ اس کی مدد کے بغیر ہم میں دشمن کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔لیکن یا درکھنا چاہئے جس وقت اللہ تعالیٰ کسی کی مدد کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے تو پھر وہ کامیاب ہو جاتا ہے کیونکہ خدا کا ہاتھ تو وسیع اور اُس کی طاقتیں بہت بے پایاں ہیں۔جس طرح اُس کی ذات محدود نہیں اسی طرح صفات کے لحاظ سے بھی وہ بے پایاں ہے۔اس سے دعا کرنی چاہئے کہ جو مشکلات ہمیں در پیش ہیں خواہ وہ مالی لحاظ سے ہوں یا عزت کے لحاظ سے یا کسی اور قسم کی سب میں وہ ہماری مدد کرے اُس کے سوا ہم کسی اور سے مدد کی امید نہیں رکھ سکتے۔پس اُس کے سامنے گر جانا چاہئے تا اگر ہمارے قصوروں نے اس کی نصرت کو پیچھے ڈال دیا ہو تو اپنے فضل و کرم سے غضب اور ضلالت کی حالت سے نکال کر ہمیں اَنعَمتَ عَلَيْهِمْ سے کے گروہ میں داخل کر دے۔پس میں دوستوں سے دوبارہ کہتا ہوں کہ وہ دعاؤں پر بہت زور دیں اور اللہ تعالیٰ سے نصرت مانگیں۔کیونکہ بغیر اس کے ہمارے لئے ترقی کا کوئی راستہ نہیں۔ت ( الفضل ۲۱۔جون ۱۹۲۹ء ) الفاتحة : ۵ الفاتحة : -