خطبات محمود (جلد 12) — Page 124
۱۲۴ ۱۶ خطبات محمود ایمان کی مضبوطی کے ساتھ اعمال کی خوبصورتی ضروری ہے فرمودہ ۲۱۔جون ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر کشمیر ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے ایک ایسی ذمہ داری عائد کی ہے جو اپنے اندر بہت سی نوعیتیں رکھتی ہے اور جس کی بہت بڑی طاقت ہے۔جس طرح ایک درخت کی پہلے جڑھ ہوتی ہے پھر شاخیں اور اس میں شبہ نہیں کہ جب تک جڑھ مضبوط نہ ہو اُس وقت تک درخت پوری غذا لے کر بڑھ نہیں سکتا اور جب تک بڑھے نہیں اُس وقت تک شاخیں اور پتے بھی نہیں نکال سکتا۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ خوبصورتی اور نفع شاخوں میں ہی ہے ایک نہایت خوبصورت درخت کی شاخیں کاٹ ڈالو تو کوئی بھی اسے دیکھ کر خوش نہ ہوگا۔یوں تو عام چیزیں اچھی ہی ہوتی ہیں لیکن بعض وہ ہوتی ہیں جو اپنی طرف نظر کو بیچتی ہیں۔ایک خوبصورت سرسبز گھنے پتوں والا درخت انسان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے لیکن اگر اس کی ٹہنیاں کاٹ ڈالیں تو وہی بدصورت ہو جائے گا اور کسی کو بھی اپنی طرف نہ کھینچے گا۔دین میں جڑھ ایمان ہے جب کسی انسان کو ایک خدا کا جو کہ تمام صفات سے متصف ہے پتہ لگ جاتا ہے تو وہ ہر قسم کے شرک سے پاک ہو جاتا ہے اور توحید کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔اس تو حید کی تعلیم زمانہ کے نبی کے ساتھ تعلق پیدا ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔مگر با وجود ایمان کی تجلی کے انسان میں خوبصورتی نہیں آتی جب تک اعمال صالحہ کی سبز ٹہنیاں اور پتے اسے نہ لگیں اور جب تک ان پتوں اور شاخوں کے ذریعہ خوبصورتی نہ پیدا ہو