خطبات محمود (جلد 12) — Page 122
خطبات محمود ۱۲۲ سال ۱۹۲۹ء وقت کوئی ظاہری مدد نہیں جو ہمیں اس مصیبت سے نجات دلا سکے۔اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور کہا آؤ خدا سے دعا کریں کہ وہ ہماری مدد کرے۔چنانچہ وہ سارے گھٹنوں کے بل مجھک گئے اور خدا تعالیٰ سے دعا کی۔کیا تعجب ہے کہ اُن کی دعا ہی کے نتیجہ میں وہ تباہی سے بچ گئے ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وہ ہر ایک کی دعا سنتا ہے خواہ وہ دہریہ ہو یا مشرک۔ہاں جب وہ انبیاء یا ان کی جماعت کے مقابلہ میں ہوتے ہیں اُس وقت بے شک اُن کی دعا قبول نہیں ہوتی۔لیکن اُس وقت یہ حالت نہیں تھی وہاں دو مشرک آپس میں لڑتے تھے۔تعجب نہیں اگر ان کی دعا قبول ہو گئی ہو۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کر دیئے کہ جرمن سپاہیوں کو خبر نہ ہو سکی کہ ان کے سامنے فوج کی صف ٹوٹ چکی ہے۔اگر انہیں اس کا علم ہو جاتا تو آج دنیا کا نقشہ ہی بدلا ہوا ہوتا اور جرمنی بجائے اتحادیوں کو تاوان ادا کرنے کے آج اُن سے تاوان لے رہا ہوتا۔اُس وقت کمانڈر انچیف نے اپنے سٹاف کے ایک افسر کو بلایا جوا بھی زندہ ہے اور خاص اسی وجہ سے بہت مشہور ہو چکا ہے۔اُسے کہا اس وقت یہ حالت ہے اور سوائے تمہارے مجھے کوئی ایسا افسر نظر نہیں آتا جو اس کا انتظام کر سکے۔پس تم جاؤ اور مجھ سے دوسرا سوال مت کرو ایسے موقع پر وہ کہنہ سکتا تھا کہ عجیب مصیبت ہے فوج تو دی نہیں جاتی مگر کہا جاتا ہے کہ دشمن کا مقابلہ کرو۔مگر وہ افسر بھی سمجھ گیا کہ اس وقت فوج کا مہیا کرنا ناممکن ہے اس لئے فوراً چلا گیا۔اس افسر نے موٹر لی اور سیدھا اُس مقام پر پہنچا جہاں لاکھوں آدمی لڑ رہے تھے وہاں ہزاروں آدمی اُن کی خدمت کیلئے بھی ہوتے ہیں مثلاً درزی، دھوبی، موچی، مہتر وغیرہ۔اس نے جاتے ہی ایسے لوگوں کو جمع کیا اور کہا تمہارے دلوں میں بھی خواہش ہوگی کہ ہمیں ملک کے لئے لڑنے کا موقع کبھی نہیں دیا گیا۔پس آج تمہارے لئے موقع ہے ہماری صف ٹوٹ چکی ہے ملک کی نگاہ اس وقت تم پر پڑ رہی ہے تم آگے بڑھو اور صف بندی کر دو۔اس پر جو کچھ کسی کے ہاتھ آیا لیکر چل پڑے اور جا کر صف بندی کر دی اور یہ نظر آنے لگا کہ صف کھڑی ہے۔اسی طرح چومیں گھنٹہ تک مقابلہ کیا گیا یہاں تک کہ دوسرے علاقوں سے فوج سمیٹ کر وہاں جمع کر دی گئی۔یہ مادہ پرستوں کا نظارہ ہے۔اُس وقت انہیں ایساک نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنے کے سوا چارہ نظر نہ آیا۔پس جب خدا کے سوا کوئی مدد کرنے والا نظر نہیں آتا اُس وقت دہر یہ بھی خدا کا قائل ہو جاتا ہے اور کہتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔