خطبات محمود (جلد 12) — Page 83
خطبات محمود ۸۳ سال ۱۹۲۹ء ضرورت کے مطابق ہو گی۔پس قربانیاں یا تو ضرورت کے مطابق ہوتی ہیں یا طاقت کے مطابق۔بعض اوقات یہ سوال ہوتا ہے کہ جس قدر تم میں ہمت ہے قربانی کر دو۔یا پھر ضرورت کے مطابق مثلاً ایک شخص کو جو مسافر ہے دس روپیہ کی ضرورت ہے اگر کچھ آدمی آنہ ڈیڑھ آنہ دے دیں تو رقم پوری ہو جائے گی۔یا پھر وہ جسے شریعت نے ضروری کیا ہے جیسے حکومت کے لئے فرض ہے کہ تمام رعایا کے کھانے پینے کا سامان کرے پس جو انسان یا تو اس حد تک قربانی کر دے کہ جس حد تک کرنا ضروری ہوا اور یا پھر اگر ایسا موقع اور ایسا معاملہ ہو کہ شریعت کہتی ہے جتنی بھی قربانی تم کر سکو کر دو تو اپنی طاقت کے مطابق کر دے تو وہ اپنے مقصد کو پالیتا ہے۔خواہ ایسی قربانی کرنے میں آسائش و آرام بھی حاصل ہو۔پس قربانیوں میں ہمیشہ یہ خیال رکھنا چاہئے کہ بیشک اپنے آرام کا سامان بھی ہو لیکن دین کے معاملہ میں کوشش کو اس حد تک پہنچا دیا جائے جس حد تک ضرورت ہے فلاح اور کامیابی دین کے لئے جلدی کرنے کے نتیجہ میں ہی مل سکتی ہے۔چونکہ اس موقع پر بہت سے دوست آئے ہیں اس لئے اس خطبہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ مؤمن کا اصل کام باتیں بنانا نہیں ہوتا بلکہ اصل کام کام کرنا ہوتا ہے۔جو دوست نمائندہ ہو کر یا شمولیت کے لئے آئے ہیں انہیں نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس امر پر غور کرنا چاہئے کہ کن ذرائع سے دین کو تقویت حاصل ہوسکتی ہے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہم تندہی کے ساتھ اس کام کو شروع کر دیں تو چونکہ یہ کام اللہ کا ہی ہے اس لئے یقیناً کامیابی ہوگی۔یہ تو اس کا احسان ہے کہ ہم سے وہ یہ کام لیتا ہے ورنہ کون مان سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا یا کسی اور کا محتاج ہے یہ تمام چاندی سونا، زمینیں اور طاقتیں کس نے پیدا کی ہیں؟ اگر وہ چاہتا تو کیا وہ خود ہی دین کا کام کرنے والوں میں انہیں نہیں بانٹ سکتا تھا اس کے خزانہ میں کوئی کمی نہیں۔اس نے انسان پیدا کئے مگر بچے پیدا کر کے ماں باپ کے حوالے کر دیئے کہ ان پر خرچ کرو اور ایسی تربیت کرد کہ خدا تعالیٰ کے کام آ سکیں۔اس طرح جو بھی چیز یں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں وہ انسان کے ہاتھ میں دے دی ہیں تا اس کے ایمان کی آزمائش کرے۔پس اس موقع پر کہ یہ در اصل ہماری آزمائش کا موقع ہے۔پارلیمنٹوں میں لوگ جا کر خوش ہوتے ہیں کہ ہماری عزت افزائی ہوئی لیکن ہمارے لئے خوشی نہیں بلکہ ڈرنے کا مقام ہے۔دوسرے لوگ پارلیمنٹ کی ممبری پر پھولے نہیں سماتے کہ ہماری عزت افزائی ہو گی لیکن ہم چونکہ خدا تعالیٰ کے