خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 82

خطبات محمود ۸۲ سال ۱۹۲۹ء چلنا شریعت نا پسند تو نہیں کرتی لیکن جب دین اور عبادت کا معاملہ ہو اس وقت کو تا ہی سے بھی منع کرتی ہے۔دین کے معاملہ میں جلدی کرنے کا حکم دیا اور پھر نتیجہ بھی بتا دیا کہ اگر نماز کی طرف جلدی آؤ گے تو فلاح بھی جلدی پاؤ گے اور کامیابی بھی جلدی حاصل کرو گے۔رسول کریم ﷺ ایک دفعہ خطبہ بیان فرما رہے تھے کہ تین شخص آئے ایک نے دیکھا کہ جگہ تو نہیں لیکن رسول کریم ﷺ کے قرب کی محبت سے مجبور ہو کر وہ کو دتا پھاند تا آگے آ بیٹھا۔دوسرے شخص نے حیا کی اور جہاں اسے جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا۔تیسرے نے دل میں کہا یہاں تو کوئی آواز پہنچتی ہے اور کوئی نہیں پہنچتی یہاں بیٹھے رہنے سے کیا فائدہ؟ چنانچہ وہ واپس چلا گیا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے تین آدمیوں کی حالت کی خبر دی ہے ایک آیا اور جگہ تلاش کر کے آگے آپہنچا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا اس کے اخلاص کی برکت میں میں اسے اپنے قرب میں جگہ دوں گا۔ایک اور آیا اس نے کہا آگے تو جگہ نہیں لیکن پیچھے ہٹنا بھی ٹھیک نہیں اور وہ و ہیں بیٹھ گیا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا میں نے بھی اس کے گناہوں کی حیا کی۔تیسرا آیا اور لوٹ گیا۔خدا نے فرمایا جس طرح وہ اس مجلس سے لوٹ گیا میں نے اس سے منہ پھیر لیا ہے بظاہر یہ معمولی بات ہے لیکن چونکہ یہ افعال قلب سے پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات دل کی حالت پر ہی ہوا کرتے ہیں اس لئے جزاء اور نتیجہ کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں کیونکہ اصل دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ دین کے معاملہ میں کس نے سستی کی اور کون آگے بڑھا۔پس مؤمن کے لئے ضروری ہے کہ دیکھ لے اس کے پیش نظر جو مقصد ہے اس کے لئے اس نے کس حد تک قربانی کی ہے اور اگر وہ جس حد تک کہ ضرورت ہے قربانی کر دے تو پھر وہ خدا تعالٰی کی نصرت کا مستحق ہو جاتا ہے۔پھر یہ سوال نہیں رہتا کہ کتنی قربانی کی ہے پھر خواہ وہ قربانی پیسہ کا لا کھواں حصہ ہی کیوں نہ ہو جب وہ اس کی اہمیت یا ضرورت کے مطابق پہنچ جائے تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔قربانی ہمیشہ یا تو طاقت کے مطابق ہوتی ہے یا ضرورت کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ ہر کام میں طاقت کے مطابق ہی قربانی کی جائے بعض دفعہ اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی کہ شریعت قرار دیتی ہے۔مثلاً شریعت نے حکم دیا ہے کہ اسلامی حکومت ہو تو سب کو کھانا | دینا حکومت کا فرض ہے یہ نہیں کہ سب مالداروں سے روپیہ لے کر سب پر تقسیم کر لیا جائے۔اس حد تک مہیا کرنے کے لئے جتنا ضرورت ہو لے لیا جائے گا اس سے زیادہ نہیں تو یہ قربانی