خطبات محمود (جلد 12) — Page 84
خطبات محمود ۸۴ سال ۱۹۲۹ء حضور جوابدہ ہونگے اس لئے ہمارے لئے سخت خطرہ کا مقام ہے۔ہماری مثال تو ایسی ہے جیسے کہتے ہیں کسی بزرگ کو کسی بادشاہ نے قاضی القضاة یعنی چیف جسٹس بنا دیا۔دوست احباب جمع ہو کر ان کے مکان پر مبارکباد کے لئے گئے لیکن انہوں نے جا کر دیکھا کہ وہ بے تابی کے ساتھ رو رہے ہیں۔انہوں نے پوچھا کیا بات ہے ہم تو سمجھتے تھے کہ آپ کے گھر بہت خوشیاں ہو رہی ہوں گی لیکن آپ رور ہے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ خوشی کا موقع نہیں بلکہ خطر ناک ابتلاء ہے۔میں بیٹھا ہونگا دو شخص فیصلہ کے لئے میرے پاس آئیں گے۔ایک کہے گا یہ میرا حق ہے اور دوسرا کہے گا میرا ہے اور ان دونوں کو پتہ ہو گا کہ کس کا ہے لیکن میں جس کے سپر داس کا فیصلہ ہوگا نہیں جانتا ہوں گا۔وہ دونوں گویا سو جا کھے ہونگے اور میں جس نے فیصلہ کرتا ہے اندھا ہوں گا۔میں نہ معلوم کتنے حق داروں کے حق چھین کر دوسروں کو دے دوں گا، کتنے مظلوموں کو ظالم قرار دیگر سزا دیدوں گا اور کتنے ظالموں کو چھوڑ دوں گا۔پس بتاؤ یہ میرے لئے رونے کا مقام ہے یا خوشیاں منانے کا۔پس ہمارا یہ اجتماع بھی بہت نازک اجتماع ہے اور ہم پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اس لئے دعائیں کرنی چاہئیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنے کی توفیق دے جو اس کی رضا کے مطابق ہے۔اس خطبہ کا آخری حصہ در اصل مجلس مشاورت میں بیان کرنا چاہئے تھا لیکن چونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جمعہ میں ایک ایسی ساعت ہے جب دعا قبول ہو جاتی ہے اس لئے میں نے جمعہ میں ہی اسے بیان کرنا مناسب سمجھا تا شاید ہماری دعائیں اس گھڑی کو پالیس اور قبول ہو جا ئیں۔( الفضل ۵۔اپریل ۱۹۲۹ء) ا تذکرہ صفحہ ۷۶۶۔ایڈیشن چہارم SIR WALTER RALEIGH ' : انگریز مد بر اور ادیب۔نام کا صحیح تلفظ رالی ہے ملکہ الزبتھ اوّل کا مقرب تھا۔امریکہ میں نو آبادیوں کیلئے مہمات کا آغاز کیا۔انگلستان کو آلو اور تمباکو سے متعارف کر وایا۔۱۵۹۵ء میں دریائے اوری نوکو ( و مینز ویلا جنوبی امریکہ ) کے منبع کی طرف مہم لے کر گیا۔جمیز اوّل کی تخت نشینی اس کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔نہایت ناکافی شہادت کی بناء پر غداری کے الزام میں سزا دیکر لندن کے