خطبات محمود (جلد 12) — Page 49
خطبات محمود ۴۹ سال ۱۹۲۹ء میں موت بھی ہے اور حیات بھی، آرام بھی ہے اور تکلیف بھی، جب عیب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ قرآن کریم کے شروع میں ہی بتایا گیا ہے کہ ساری خوبیاں ہی خوبیاں اللہ کے لئے ہیں تو پھر سوال ہوتا ہے کہ بُرائی کہاں سے آتی ہے؟ بعض پرانے مذاہب والوں نے اس سوال کا حل یوں کیا ہے کہ بدی کا پیدا کرنے والا اور خدا ہے۔یعنی ایک اور خدا کا وجود مانا ہے اس کا نام انہوں نے الگ رکھ دیا ہے اور اصل خدا کا الگ گو یا دو خدا تجویز کئے ہیں اہرمن اور یزدان۔ان کے نزدیک یزدان جلاتا اور پیدا کرتا ہے اور اہرمن مارتا ہے۔گو یا خدا اور شیطان کو بالمقابل لا کر کھڑا کر دیا ہے۔پہلے ایران میں یہی مذہب رائج تھا۔ہندوؤں نے اس سوال کو تناسخ کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ کہتے ہیں موجودہ مصائب پچھلے جنم کی سزا ہوتی ہے اور سزا عیب نہیں ہوا کرتی۔یہ مسئلہ بھی اتنا گھر کر چکا ہے کہ میں نے خود کئی مسلمانوں کو یہ کہتے سنا ہے یہ تکلیف پچھلے جنم کا نتیجہ ہے یعنی ہندوؤں سے سن کر وہ بھی یہ محاورہ استعمال کرنے لگ گئے ہیں اور کہتے ہیں خبر نہیں کونسی جون کی یہ سزا ہمیں مل رہی ہے۔لیکن اسلام بتا تا ہے خدا ایک ہے اور مسئلہ تناسخ صحیح نہیں۔اسلام کی تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز نیکی کے لئے پیدا کی ہے اور پھر بندہ کو استعمال کے لئے دیدی ہے۔آگے اگر وہ اس کا اچھا استعمال کرے تو وہ اچھی ہو جائے گی اگر وہ بُرا کرے گا تو بُری۔جیسے چاقو ہے۔چاقو بنانے والے نے کسی کے قتل کرنے کے لئے نہیں بنایا۔لیکن اگر کوئی احمق چاقو سے کسی کی جان لے لے تو اس میں چا تو بنانے والے کا کوئی قصور نہ ہوگا کیونکہ اس نے تو اسے اچھے کام کے لئے بنایا تھا مثلاً اگر دنیا میں لوہا نہ ہوتا تو تالے چابیاں نہ بن سکتے۔بل، کلہاڑی کسی نہ بن سکتی۔اللہ تعالیٰ نے تو لوہا اسی لئے پیدا کیا ہے کہ اس سے ریل انجن، مشینیں، تالے اور دوسری ضروریات کی اشیاء بنائی جائیں لیکن کئی نادان لوہے سے دوسرے کا سر پھوڑ دیتے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا عیب نہیں جس نے لوہا پیدا کیا بلکہ سر پھوڑنے والے کی اپنی شرارت ہے۔اسی طرح انسان بیمار کس طرح ہوتا ہے بیماری سردی یا گرمی لگ جانے دھوپ لگنے غذا کی خرابی یا جسم کے نامناسب استعمال سے پیدا ہوتی ہے جیسے اگر کوئی بہت سخت چیز دانتوں سے توڑے تو یقیناً اس کے دانتوں میں تکلیف ہو گی۔اگر کوئی حلق کا زیادہ استعمال کرے تو وہ خراب ہو جائے گا۔اگر کوئی معدے کا زیادہ استعمال کرے تو وہ کمزور ہو جائے گا۔یا اگر کوئی ایسی چیزیں کھائے جن سے جگر خراب ہوتا ہے تو اس کے جگر میں نقص پیدا ہو