خطبات محمود (جلد 12) — Page 48
خطبات محمود ۴۸ ہیں؟ اگر یہ ساری اللہ تعالی کی ہی پیدا کردہ ہیں تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ کچھ بُری باتیں بھی خدا کے لئے ہیں سب تعریفیں ہی نہیں۔یہ عقیدہ ہمارے ملک کے لوگوں میں اس قد رگھر کر چکا ہے کہ وہ اچھی بات تو کم ہی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن بُری باتیں ساری اس کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔اگر کسی کا کوئی عزیز مر جائے تو وہ کہتا ہے خدا کی کرنی۔اگر کسی کو مالی نقصان پہنچ جائے تو کہتا ہے کہ خدا کی مرضی۔اگر کوئی اپنے مقصد میں ناکام رہے تو کہتا ہے خدا کی مرضی یہی تھی۔لیکن اگر کوئی اچھی چیز اسے مل جائے تو خدا کا نام نہیں لیتا۔کسی کو اولا دل جائے یا اپنی یا اپنے کسی بچے کی شادی اچھی جگہ ہو جائے تو کہتا ہے ہم نے خوب سوچا تھا۔اگر کسی کا بیمار اچھا ہو جائے تو کہے گا فلاں ڈاکٹر یا طبیب نے کیا ہی اچھا نسخہ دیا یا فلاں بڑھیا یا بڈھے نے نہایت عمدہ دوائی بنائی۔یا یہ کہ ہمیں خود ہی کیا اچھی ترکیب سوجھ گئی کہ مریض شفایاب ہو گیا۔غرض کہ جتنی غلطیاں ہیں وہ تو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اور جتنی اچھی باتیں ہیں وہ اپنی طرف۔شفایابی کامیابی ترقی یہ تو اپنے اپنے بڑوں استادوں، دوستوں، حکیموں، ڈاکٹروں اور وکیلوں کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اور جملہ بلائیں اور مصیبتیں خدا کی طرف۔حالانکہ اگر اس غلط عقیدہ کو تسلیم بھی کر لیا جائے جو مسلمانوں میں رائج ہے کہ نیکی بدی سب خدا تعالیٰ ہی کراتا ہے تب بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھلا بُر اسب اس کی طرف منسوب ہونا چاہئے شفا اور بیماری بھی مقدمہ کا ہارنا بھی اور جیتنا بھی، مقصد میں ناکامی بھی اور کامیابی بھی سب کچھ خدا تعالیٰ سے ہی منسوب ہونا چاہئے۔مگر حالت یہ ہے کہ مقدمہ کا ہارنا تو خدا کی مرضی پر سمجھا جاتا ہے لیکن جیتنا وکیلوں اور دوستوں کی کوشش کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔حالانکہ اگر تقدیر کا مسئلہ اس طرح بھی مان لیا جائے جس طرح آج مسلمانوں میں رائج ہے تب بھی عیب وصواب دونوں خدا تعالیٰ سے منسوب ہونے چاہئیں۔لیکن نہیں۔لوگ عیب خدا سے منسوب کرتے ہیں اور صواب اپنی طرف۔حالانکہ قرآن کریم بتاتا ہے کہ ساری تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور تعریف ہمیشہ خوبی کے باعث ہوا کرتی ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ کوئی شخص کسی کے بچے کو تھپڑ مارے اور وہ اس کی تعریف کرے کہ کیا اچھا تھپڑ مارا ہے۔یا کسی کے بچہ کا گلا گھونٹ دے اور وہ کہے سُبحَانَ اللهِ کیا اچھا گلا گھونٹا ہے۔تو تعریف ہمیشہ اچھی بات کی ہوتی ہے۔پس جب یہ کہا گیا کہ الْحَمدُ لِلهِ تو اس کے صاف معنی ہیں کہ کوئی عیب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔مگر ہم دیکھتے ہیں دنیا