خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 541

خطبات محمود ۵۴۱ سال ۱۹۳۰ء جماعتوں کے دوست آ کر ٹھہریں گے اور ان کے مکان ایسے مہمانوں کے لئے پہلے ہی لگے ہوئے ہیں۔اس میں تو شک نہیں کہ اس طرح انہوں نے اپنے اوپر تکلیف برداشت کرنے کی تجویز کر لی ہے مگر یہ کافی نہیں۔ان دنوں میں تنگی اگر صرف قادیان کے لوگوں کے لئے ہی ہوتی تو کہا جا سکتا تھا کہ خیر مہمانوں کو تو آرام مل رہا ہے۔آخر گھر والے اپنے کئی قسم کے آرام مہمانوں کے لئے ترک کرتے ہیں لیکن جب باقی مہمان بھی تکلیف اُٹھاتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ سب کے ساتھ ان دوستوں کے مہمان تکلیف نہ اُٹھا ئیں۔کیا یہ اچھی بات ہے کہ انہیں تو گھروں میں چار پائی اور بستر وغیرہ مل جائے لیکن بعض کے لئے صحن میں کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہ ہو۔وہ تو آرام سے چار پائی اور بستر لے کر سور ہیں مگر دوسرے بھائی بیوی بچوں سمیت تمام رات باہر کھڑے رہ کر اور۔گزار دیں یہ سلسلہ کی خدمت نہیں کہلا سکتی۔مہمان نوازی کہلا سکتی ہے اور دوست نوازی بھی بے شک ہے اور یہ دونوں باتیں اچھی ہیں مگر سلسلہ کی خدمت سب سے اچھی ہے۔میں ان لوگوں کی اس لئے تو قدر کرتا ہوں کہ وہ مہمان نوازی اور دوست نوازی کرتے ہیں لیکن دوستوں کے ساتھ نیکی کرنے کی نسبت وہ نیکی جو خدا کے لئے کی جائے بہت زیادہ درجہ رکھتی ہے۔ایسے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دوستوں کو سمجھائیں کہ ہم نے تو تمہارے لئے دو کمرے رکھے تھے لیکن مکانات کی قلت کو دیکھ کر ایک ہم نے منتظمین جلسہ کے حوالے کر دیا یا ایک رکھا تھا مگر جگہ کی تنگی کی وجہ سے یہ انتظام کر لیا ہے کہ چادر تان کر آدھے حصہ میں آپ رہیں اور آدھے حصہ میں منتظمین فائدہ اُٹھا لیں اگر دوست اس طرح کام کریں تو بہت جلد مکانات مہیا ہو سکتے ہیں۔قادیان اب خدا کے فضل سے کافی وسیع ہے جس طرح مہمان عام جگہوں میں ٹھہرتے ہیں اسی طرح اگر گھروں میں بھی ٹھہریں تو جتنے مہمان ہوتے ہیں۔ان سے بہت زیادہ یہاں سما سکتے ہیں۔گھروں میں چار پائیاں بچھائی جاتی ہیں پھر کوئی حصہ باورچی خانہ کے لئے اور کوئی اسباب وغیرہ رکھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے پھر چار پائیوں کے درمیان کچھ نہ کچھ فاصلہ رکھا جاتا ہے لیکن اگر سب زمین پر سوئیں تو چار پائیوں پر سونے سے دس بارہ گنا زیادہ آدمی سو سکتے ہیں۔قادیان کی آبادی اس وقت پانچ ہزار کے قریب ہے گویا اس حساب سے موجودہ مکانات میں ہی قریباً ساٹھ ہزار مہمان اُتارے جا سکتے ہیں۔پس مکانوں کی تنگی اس لحاظ سے نہیں کہ مکان کم ہیں بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ دوست اپنے ہاں ٹھہر نے والے مہمانوں کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ذرا تنگی میں