خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 540

خطبات محمود ۵۴۰ سال ۱۹۳۰ سے پہلے ہی جمعہ پڑھا دیا کروں گا۔آج میں اختصار کے ساتھ دوستوں کو جلسہ کی ضرورتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔کل مجھے معلوم ہو ا کہ مکانات کے متعلق بہت دقت محسوس ہو رہی ہے۔چونکہ کوئی گزشتہ ریکارڈ موجود نہیں اس لئے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ گزشتہ سال مطالبہ کم تھا اور اس سال مطالبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے نات کم ملے ہیں یا اس سال واقعی کم مکان ملے ہیں بہر حال اس سال کے مطالبہ سے مکانات کم ملے ہیں اور ہم نے ضرورت کو پورا کرنا ہے اس لئے میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جنہوں نے مکانوں کے متعلق پوری قربانی نہیں کی یا کی تو ہے مگر ان کے دل زیادہ وسیع ہیں وہ اپنے مکانوں کا زیادہ حصہ خالی کر کے منتظمین جلسہ کو دے دیں۔دو چار دن کے لئے معمولی تکلیف اُٹھا لینا کچھ مشکل نہیں یہ عارضی کام ہے اس لئے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ان تین دنوں کے لئے نئے مکان بنوالئے جائیں اور خیموں کا انتظام بھی اب نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے لئے بھی وقت نہیں رہا اور یہ مشکل بھی ہے۔بے شک دوسری کانفرنسوں میں عام طور پر خیموں کا ہی انتظام ہوتا ہے لیکن وہ لوگ خیموں میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں۔عمدہ عمدہ غذائیں کھاتے ہیں کافی گرم بستر ان کے پاس ہوتے ہیں اور نوکر چاکر خیموں کی خبر گیری کے لئے موجود رہتے ہیں۔مگر ہمارے لئے اول تو اس انتظام کا وقت اب نہیں رہا دوسرے ہمارے مہمان اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ خیموں میں گزارہ نہیں کر سکتے انہیں ان کی نگرانی کرنی نہیں آتی۔باوجود یکہ اپنی جماعت کو ٹھہ سے باز رکھنے کے لئے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے آگاہ کیا ہے کہ آپ اسے نا پسند کیا کرتے تھے مگر سستی اور غفلت سے بعض نے اس عادت کو ابھی تک نہیں چھوڑا اور زمینداروں میں تو خصوصیت سے یہ زیادہ ہے۔اگر ایسے مہمانوں کو خیموں میں اُتارا جائے تو خطر ناک حادثات رونما ہونے کا ڈر ہے چلم میں تو عقل نہیں ہوتی کہ معلوم کر سکے کہ اس سال ہم مکان میں نہیں بلکہ خیموں میں رہتے ہیں۔خیموں میں جس قسم کے لوگ رہتے ہیں ان کے پاس نگرانی کے لئے نوکر ہوتے ہیں پھر وہ عادی ہوتے ہیں۔مگر ہمارے مہمانوں کے متعلق یہ انتظام نہیں چل سکتا۔اور اس لئے ہمیں تکلیف اُٹھا کر بھی گھروں میں گنجائش نکالنی چاہئے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے کارکنوں سے تعاون کریں۔مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض نے اس لئے مکان نہیں دیئے کہ ان کے پاس مختلف