خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 542

خطبات محمود ۵۴۲ سال ۱۹۳۰ء گزارہ کر لو اور خدا کے لئے کچھ اور تکلیف برداشت کر لو۔ہمارے گھر میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اترا کرتے ہیں وہ اچھے امیر آدمی ہیں دو تین ہزار روپیہ ماہوار آمدنی رکھتے ہیں مگر ان کے خاندان کے دس بارہ آدمی ایک ہی چھوٹی سی کوٹھڑی میں گزارہ کر لیتے ہیں۔ان کے والد چوہدری نصر اللہ خان صاحب کی ایک بات مجھے ہمیشہ پیاری معلوم ہوتی ہے حضرت خلیفہ اول کی زندگی کے آخری سال میں جلسہ میں مہمان نوازی کا افسر تھا چوہدری صاحب آسودہ حال آدمی تھے اور عمر بھی ان کی زیادہ تھی میں نے ان کے لئے علیحدہ مکان کی کوشش کی مگر انہوں نے کہا میں سب کے ساتھ ہی رہوں گا مگر اس طرح وہ بیمار ہو گئے۔اگلے سال یعنی میرے ایام خلافت میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ان سے کہا کہ پچھلے سال آپ کو تکلیف ہو گئی تھی اب کے علیحدہ ٹھہرنے کا انتظام کیا جائے گا مگر انہوں نے جواب دیا آگے ہی پلا ؤ کھانے والے اور اپنے لئے خاص آرام چاہنے والے الگ ہو گئے ہیں میں تو سب کے ساتھ ہی رہوں گا۔ان کی مراد اس سے یہ تھی کہ خواجہ صاحب وغیرہ یہاں آتے تو ہمیشہ کھانے پینے کا خاص انتظام کرایا کرتے تھے اور کہیں نہ ہو سکے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی کہلا بھیجتے تھے۔اب شاید جلسہ سے قبل یہ آخری اخبار ہو گا جس میں یہ خطبہ چھپ سکے گا اور معلوم نہیں لوگوں کو بروقت پہنچ سکے یا نہیں لیکن میں ایک بات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ ہر سال جماعت کے دوستوں کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جلسہ پر آئیں اور جب جماعت ہر سال بڑھتی رہتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ زیادہ نہ آئیں۔جو پہلے آتے ہیں وہ بھی اور جو ننے داخل ہوتے ہیں وہ بھی آتے ہیں اور اس طرح ہر سال تعداد بڑھتی رہتی ہے غیر احمدی اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔آٹھ نو سو یا ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ غیر احمدی آتے ہیں اور ان سے بیعت کرنے والوں کی تعداد چھ اور آٹھ سو کے درمیان ہوتی ہے۔ان میں بے شک ایسے بھی ہوتے ہیں جو پہلے ہی بیعت کے لئے تیار ہو کر آتے ہیں مگر ایک خاصی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو یہاں آ کر اس طرف مائل ہوتے ہیں پس ہمارے دوستوں کو چاہتے ایسے لوگوں کو ضرور ساتھ لائیں۔تا ہر سال ہمارا قدم آگے بڑھنے والا ہو۔سالانہ جلسہ پر بہت بڑا اجتماع ہوتا ہے اور یہ دن بیماری کے ہیں انفلوائنز بہت پھیلا ہوا۔