خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 456

خطبات محمود ۴۵۶ سال کرنے والے ہیں۔یہ دیکھ کر میں ایسا گھبرایا کہ مجھے یہ بھی خیال نہ رہا کہ یہاں شیر کہاں آ سکتے ہیں اور فوراً اُٹھ کر بھاگا حتی کہ جوتیاں بھی نہ پہن سکا اور ہاتھ میں ہی لے کر بھاگ نکلا۔میرے جانے کے بعد مرزا صاحب کو خیال آیا تو آپ نے کہا کون یہاں سے اٹھ کر کیا ہے اُسے بلاؤ۔چنانچہ : و تین آدمی میرے پیچھے مجھے لینے کے لئے آئے لیکن میں نے انہیں یہی جواب دیا کہ اس وقت میرے حواس بجا نہیں پھر کبھی حاضر ہوں گا اور فوراً چلا آیا۔وہ شخص اکا ؤنٹنٹ تھا۔لاہور جا کر اس نے یہ سارا واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خود لکھا۔اور ساتھ لکھا مجھے یقین ہو گیا ہے آپ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں میں اگر چہ ہندو ہوں لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ کا اوتار مانتا ہوں آپ اپنی تصانیف مجھے عنایت کیا کریں۔غور کرو یہ سونٹے کے سانپ بن جانے سے کہیں بڑھ کر معجزہ ہے یا نہیں۔پس ہمارے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تعلیم کے مغز کو حاصل کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کی ہے۔اور اس تعلیم کی روشنی میں قرآن کریم کو پڑھیں لیکن اگر ایسے ہی معنے شروع کر دیں جیسے اس درس میں کئے گئے تو ممکن ہے بعض لوگوں کو ایک حد تک خوش کر سکیں لیکن اس مینار کی بنیادوں کو جو خدا نے اس زمانہ میں کھڑا کیا ہے متزلزل کر دینے والے ہوں گے۔ہر احمدی کو چاہئے کہ اس اصل کو نہ چھوڑے جو خدا کے مامور نے قائم کیا ہے۔ایک نوجوان مولوی جو دہلی میں پڑھتے تھے اور شاید دیو بند میں بھی پڑھتے رہے ہیں وہ یہاں مدتوں تحقیقات کے لئے آتے رہے اور پھر احمدی ہو گئے۔پچھلے دنوں جب میری وفات کی خبر مشہور ہوئی تو یہاں آئے۔غالباً مولوی ثنا اللہ صاحب یا کسی اور مولوی نے ان سے دریافت کیا تم کیا دیکھ کر احمدی ہوئے ہو۔وہ سناتے تھے میں نے کہا تم لوگ ساری عمر علم حاصل کرنے میں گزار دیتے ہو مگر قرآن کریم اور حدیث کو نہیں سمجھ سکتے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک احمد یہ سکول قائم کیا جس کا ایک چھٹی جماعت کا لڑکا تمہارا ناطقہ بند کر سکتا ہے۔یہ علم احمدیوں کے بچوں تک کو کہاں سے حاصل ہو جاتا ہے یہ حضرت مسیح موعود کے طفیل ہی ہے۔پس چاہئے کہ ہم اس رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کریں اور خود نئے راستے نہ نکالیں۔راستہ وہی درست ہوتا ہے جو ما مور من اللہ بتاتے ہیں اور وہی اس بات کے اہل ہوتے ہیں اور کسی کا یہ حق نہیں۔پنجابی میں ایک مثل ہے کہ گھروں میں آواں نے سنبے توں دیویں، یعنی گھر سے تو میں آ رہا ہوں اور گھر کے پیغامات تم