خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 457

خطبات محمود ۴۵۷ سال ۱۹۳۰ء دے رہے ہو۔وہ لوگ خدا کے پاس سے آتے ہیں۔اب اگر ہم ایک مامور کی تعلیم کی پرواہ نہ کریں اور بیان کرنے لگ جائیں کہ معجزے ایسے ہونے چاہئیں تو یہی مثل ہو گی۔حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے تمہاری حدیثوں کی میرے قول سینے مقابل میں کیا حقیقت ہے۔مسیح موعود اگر ہزار احادیث کو بھی غلط قرار دے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔وہ خدا سے نور حاصل کرتا ہے اور احادیث انسانی روایات ہیں۔حضرت محی الدین صاحب ابن عربی اور بعض دیگر اولیاء اللہ نے کئی احادیث سے انکار کر دیا اور کئی خود بیان کر دی ہیں۔وہ لکھتے ہیں یہ حدیث ہے پھر آگے چل کر لکھ دیتے ہیں میں نے خواب میں رسول کریم ع کو دیکھا اور آپ نے خود یہ حدیث مجھ سے بیان کی اور یہ جھوٹ نہیں ہوسکتا کیونکہ خدا کا علم ہی سچا علم ہے۔زید اور بکر تو جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن خدا نہیں بول سکتا۔اللہ تعالیٰ سے کچھ پوشیدہ نہیں بیچ وہی ہے جو خدا سنا تا ہے۔اولیاء اللہ کو کشف میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ اسے دھڑنے سے بیان کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ سے نور حاصل کرتے تھے۔اور جب دنیا ماً مور کے راستہ کو چھوڑ دیتی ہے۔تو پھر نیا ماً مور آتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ ما مور سے بڑھ کر کوئی رحمت نہیں لیکن مامور کے آنے کی ضرورت پیدا کرنے سے زیادہ کوئی زحمت بھی نہیں۔ما مور اُسی وقت آتے ہیں جب گمراہی پھیل جاتی ہے۔مأمور کا آنا سب سے بڑی رحمت ہے لیکن اس کو لا ناسب سے بڑی زحمت ہے پس برکت کا طریق یہی ہے جو خدا تعالیٰ نے قائم کیا۔حضرت عمرؓ نے عبد اللہ بن مسعود کو جو پہلے صحابیوں میں سے تھے اور فتویٰ دیا کرتے تھے فتویٰ دینے سے روک دیا تھا کہ آپ غلطی کر جاتے ہیں۔اسی لحاظ سے یہ پسندیدہ سمجھا گیا ہے کہ یہاں درس وغیرہ اجازت کے ماتحت ہوتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ غلطی ہو جائے۔یہاں ایسی تعلیم کے پھیلانے کی اجازت دی جا سکتی ہے جو سلسلہ کی روح اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش کردہ تعلیم کے مطابق ہو۔دل میں کوئی شخص جو چاہے معنی کرے مگر ایسے رنگ میں ان کا اظہار نہ کرے کہ سمجھا جائے یہ جماعت کا خیال ہے۔یہاں ایسے لوگ بھی آتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب نہیں پڑھیں اور ایسی باتوں سے ان کا دھوکا کھا جا ناممکن ہے۔فرض کر لو کہ واقعی پہاڑ سر پر رکھ دیا گیا تھا لیکن اگر اس کا اظہار نہ کیا جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔مگر اس کے بیان کرنے سے چونکہ جماعت کے اندر تفرقہ اور شقاق پیدا ہونے کا احتمال ہے اس لئے یہ