خطبات محمود (جلد 12) — Page 439
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء ساتھ شامل ہو جاؤں گا۔اس تعصب کی وجہ سے جو عام طور پر مسلمانوں کے اندر کانگریس کے خلاف پیدا ہو چکا ہے اس بات کی طرف بھی غالبا مسلمانوں نے توجہ نہیں کی حالانکہ یہ بات بہت ضروری ہے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ جس طرح کانگریس یہ کہتی ہے کہ اقلیتوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا اسی طرح گورنمنٹ بھی کہتی ہے۔اس بارے میں دونوں میں ذرہ بھر فرق نہیں اور اس وجہ سے یہ مطالبہ بالکل صحیح ہے کہ اگر اس بناء پر کانگریس سے قطع تعلق کرتے ہو کہ کانگریس مسلمانوں کے حقوق کے متعلق کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی تو گورنمنٹ سے کیوں نہیں کرتے۔انہوں نے یہ سوال علی برادران سے کیا ہے اور لکھا ہے کہ اگر آپ میری تسلی کر دیں تو میں کانگریس سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔اس سوال کے دو پہلو ہیں ایک تو صرف علی برادران سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا ہم سے بھی تعلق رکھتا ہے۔جو حصہ اُن سے تعلق رکھتا ہے اس کا جواب تو نہایت آسان ہے یعنی فی الواقع ان کی پوزیشن اس وقت یہی ہے کہ وہ کسی سے بھی تعاون نہیں کر رہے۔انہوں نے یہی اعلان کیا ہے کہ ہم کانگریس کی ہڑتالوں اور ان کے جلوسوں میں شامل نہیں ہوں گے اور یہی عدمِ تعاون وہ گورنمنٹ سے بھی کر رہے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر کانگریسیوں کی سرکوبی کے لئے گئے ہوں وہ نہ کانگریس کی مدد کرتے ہیں اور نہ گورنمنٹ کی اس لئے ان پر تو یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا۔ہاں ہم پر ایک حد تک یہ سوال پڑتا ہے۔اور گو ہمیں اس میں مخاطب نہیں کیا گیا مگر ہم پر یہ سوال ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نہ صرف کا نگریس کے جلسوں اور جلوسوں وغیرہ میں شامل نہیں ہوتے بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ضرورت ہوئی تو ہم عملا بھی کانگریس کا مقابلہ کریں گے اور جہاں تک ممکن ہے اب بھی کرتے ہیں۔اگر کوئی ہڑتال کرے تو ہم اسے یہی تلقین کرتے ہیں کہ دکان کھول دو اس لئے ہم پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ اگر کانگریس کے ساتھ شامل نہیں ہوتے تو گورنمنٹ سے کیوں تعاون کرتے ہو۔اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ یہ غلط ہے کہ ہم کا نگر میں سے اس وجہ سے علیحدہ ہیں کہ وہ ہمارے حقوق اور مطالبات تسلیم نہیں کرتی بلکہ اس وجہ سے الگ ہیں کہ وہ ایسے طریق اختیار کر رہی ہے جو ہمارے نزدیک مذہب اور اخلاق کی جڑھ کو کھوکھلا کرنے والے اور سیاسیات کو تباہ کرنے والے ہیں۔کانگریس کا فیصلہ ہے کہ قانون شکنی کی جائے اور یہ چیز خواہ کتنے ہی اعلیٰ خیالات کی تائید میں کیوں نہ ہو بُری ہے کیونکہ اس کے لئے کوئی ایسا