خطبات محمود (جلد 12) — Page 440
خطبات محمود ۴۴۰ سال ۱۹۳۰ء معیار نہیں کہ کس حکومت اور کس زمانہ میں کس حد تک قانون شکنی جائز ہے اور کہاں نہیں۔کیونکہ جب تک تمام انسان اپنی اولادوں کو مار کر اور اپنے گھروں کو آگ لگا کر جنگلوں میں جا کر ایک دوسرے سے بالکل علیحدہ علیحدہ نہ رہیں اُس وقت تک ضرور ہم کسی نہ کسی قانون کے محتاج ہیں اور اس کی پابندی دوسروں سے کرانے پر مجبور ہوں گے۔بڑے سے بڑے حریت کی تعلیم دینے والے بھی کسی نہ کسی قانون کی پابندی ضرور کرتے ہیں۔جنہوں نے سوشلزم اور بولشوزم کی کتابیں پڑھی ہیں وہ تو اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں لیکن جنہوں نے ان کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا وہ شاید نہ سمجھ سکیں کہ کوئی شخص جتنا زیادہ حریت کی تعلیم دیتا ہے اتنا ہی زیادہ وہ قانون کا پابند ہوتا ہے۔سوشلزم میں تو زیادہ زور اس پر ہے کہ تمام کا نہیں گورنمنٹ کے تصرف میں ہونی چاہئیں پھر وہ کہتے ہیں تعلیم حاصل کرنا ہر ایک کا حق ہے اور اس کا انتظام گورنمنٹ کے ذمہ ہے اسی طرح مکانات کا مالک بھی وہ گورنمنٹ کو ہی قرار دیتے ہیں۔اب جس تحریک کے ماتحت یہ انتظام ہو اُس کے احکام کی تو اور بھی زیادہ پابندی کرنی پڑے گی وہاں تو بچوں اور مکانات کے متعلق بھی انسان کو آزادی نہیں ہو گی۔مگر آپ لوگ یہاں ان باتوں میں آزاد ہیں جو تعلیم چاہیں اپنے بچوں کو دیں مگر سوشلزم کی صورت میں یہ بات آپ کے اختیار میں نہیں ہوگی۔اگر چہ یہ صیح ہے کہ ان کے بعض فریق یہ نہیں کہتے لیکن ترقی یافتہ یہی کہتے ہیں۔پھر ہمیں آزادی ہے کہ جیسے مکان چاہیں تعمیر کریں لیکن جہاں گورنمنٹ کے دیئے ہوئے مکان میں گزارہ کرنا پڑے وہاں تو پابندیاں بہت بڑھ جائیں گی۔اسی طرح بولشوزم کا حال ہے اس تحریک کے ماتحت بھی اولاد کو نی انسان اپنے حسب منشاء تعلیم نہیں دے سکتا۔میں نے روس سے آنے والوں سے پوچھا ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح وہاں کے مسلمانوں کو جبر امذ ہب سے روکا جاتا ہے اور وہ لوگ کس طرح اس جبر کو برداشت کر لیتے ہیں کیا وجہ ہے کہ ابتداء میں ہی مسلمانوں نے اس کے خلاف بغاوت نہ کی۔کئی ایک تو اس سوال کا کوئی معقول جواب نہ دے سکے لیکن ایک نے ان میں سے بہت لطیف جواب دیا اُس نے کہا کہ وہ براہ راست ایسا نہیں کرتے اگر ایسا ہوتا تو یقیناً شروع میں ہی مسلمان بغاوت کر دیتے۔بات یہ ہے کہ وہاں بچوں کی تعلیم حکومت کے ذمہ ہے تمام بچے سرکاری انتظام کے ماتحت سکولوں میں تعلیم پاتے ہیں۔وہاں جا کر اگر کوئی مسلمان یہ شکایت کرے کہ میں مسلمان ہوں لیکن میرالڑ کا نماز نہیں پڑھتا یا قرآن نہیں پڑھتا اسے اس کیلئے