خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 438

خطبات محمود ۴۳۸ سال ۱۹۳۰ء۔کا فضل ہے کہ جماعت بجائے پیچھے ہٹنے کے اور بھی آگے بڑھ رہی ہے کئی دوستوں کے خطوط آئے ہیں کہ اب خلافت کی عظمت اور ضرورت ہمارے دلوں میں سینکڑوں گنا زیادہ ہو گئی ہے۔دشمن نے سوچا تھا کہ اس منصوبہ سے جماعت میں تفرقہ پیدا کر دے اور اسے کمزور کر دے اگر جیسا کہ دشمن بیان کرتے ہیں، جماعت کے لوگوں میں منافقت ہوتی تو فورا وہ مجاہد جن کا ذکر وہ بار بار کرتے ہیں آگے آتے اور خلافت پر قبضہ کر کے جماعت کو تتر بتر کر دیتے لیکن ایسا ہونے کے بجائے جماعت کا ہر فرد اس خبر کے بعد اس طرح محسوس کر رہا ہے گویا وہ غسل کر کے باہر نکلا ہے۔اور بجائے پراگندگی کے جماعت میں مضبوطی پیدا ہو رہی ہے۔تو مؤمن کے لئے مصیبت رحمت کا موجب اور اسے اللہ تعالیٰ کے اور بھی قریب کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے پھر وہ ہمارے لئے کیوں نہ ہوتی۔جن کا آقا وہ ہے جس کے لئے خدا تعالیٰ فرما چکا ہے آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔دشمنوں نے ہمارے لئے ایک آگ مشتعل کی تھی اور چاہا تھا کہ ہم کو جلا دیں مگر اس آگ نے ہمیں جلانے کے بجائے ہمارے لئے کھانے تیار کئے اور دشمنوں کے دلوں کو جلایا۔پس خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرو کیونکہ دنیا ہماری دشمن ہے۔میرا خیال ہے اس خبر کی اشاعت میں کانگریس کا دخل بھی ہے۔میں چونکہ ایسے خطبات دے رہا تھا جن میں ان کے خیالات کی تردید ہوتی تھی اس لئے اگر اس جمعہ میں میں نے کانگریس کے متعلق کچھ نہ کہا تو ممکن ہے وہ سمجھیں ہم نے کم از کم ایک ہفتہ کے لئے تو اسے خاموش کرا دیا اس لئے میں اس ہفتہ بھی اس کے متعلق اظہار خیالات سے باز رہنے سے انکار کرتا ہوں اور آج میں اس کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتا ہوں جس کے متعلق بہت کم توجہ کی گئی ہے اور جو میرے نزدیک بہت اہم ہے۔وہ سوال سید حسرت موہانی صاحب نے اُٹھایا ہے۔جہاں تک میں ان سے ملا ہوں وہ ہوشیار اور ذہین آدمی ہیں گو سیاسی خیالات میں میرا ان سے شدید اختلاف ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے اندر قربانی کا مادہ ہے اور یہ بات بہت قابل قدر ہے خواہ مخالف میں ہی پائی جائے۔انہوں نے یہ سوال پیش کیا ہے کہ اگر مسلمان یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کانگریس سے عدم تعاون کریں گے کیونکہ وہ ہمارے حقوق تسلیم نہیں کرتی تو انہیں یہ بھی فیصلہ کر لینا چاہئے کہ وہ گورنمنٹ سے بھی عدم تعاون کریں گے کیونکہ وہ بھی تو ان کے حقوق تسلیم نہیں کرتی۔پس مسلمانوں کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ دونوں سے تعاون نہیں کریں گے اور اس صورت میں میں بھی مسلمانوں کے