خطبات محمود (جلد 12) — Page 40
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء قائم ہونے والا سچائی کی حمایت میں کھڑا ہوتا ہے۔رسول کریم علیہ شرک کے خلاف کھڑے ہوئے مکہ والوں نے اسی طرح زور سے آپ کی مخالفت کی جس طرح بیچ کے حامی کرتے ہیں۔بات یہ ہے کہ اس قسم کا جوش کسی عقیدہ کے لحاظ سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ اس عقیدہ کے بچے ہونے کی وجہ سے۔ہو سکتا ہے کہ ایک عقیدہ بالکل غلط ہو مگر اس کے ماننے والوں کو اس کے لئے ایسا ہی خوش ہو جیسا کہ ایک سچا عقیدہ رکھنے والوں کو اپنے عقیدہ کے متعلق ہو سکتا ہے۔اس وجہ سے تمام کی تمام قومیں اور فرقے ہماری نسبت یہی خیال کرتے ہیں کہ چونکہ یہ روز بروز پھیلتے جاتے ہیں اس لئے ہماری جگہ پر قابض ہو جائیں گے اس بات سے بحیثیت فرقہ ان کے دلوں میں ہمارے متعلق خیر خواہی اور خیر اندیشی نہیں ہے۔ہاں ان کے افراد ایسے ہو سکتے ہیں اور ہیں جو ہمارے خیر خواہ ہوں۔حنفیوں میں افراد کے طور پر ایسے لوگ مل جائیں گے جو خیر خواہ ہونگے وہابیوں میں سے ایسے لوگ مل جائیں گے، غیر مسلموں، عیسائیوں، ہندوؤں میں سے مل جائیں گئے مگر آج کل کی حنفیت ہماری خیر خواہ ہو یہ ناممکن ہے۔گویا بحیثیت افراد خیر خواہ ہل جائیں گے مگر بحیثیت قوم خیر خواہ نہ ملیں گے۔پس چند افراد کا اچھا ہونا یہ مطلب نہیں رکھتا کہ بحیثیت قوم خیر خواہ ہیں۔پھر خصوصیت کے ساتھ محمد ی سلسلہ میں یہ بات نمایاں ہے بلکہ اس کے متعلق پیشگوئی موجود ہے۔یوں بھی ہمیشہ دنیا سچائی کی دشمن چلی آئی ہے مگر اس کے متعلق تو پیشگوئی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ کو بتایا۔اس کا ہاتھ سب کے اور سب کے ہاتھ اس کے برخلاف ہو نگے۔اور وہ اپنے بھائیوں کے سامنے بود و باش کرے گا لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت اسماعیل کا سلسلہ جب کبھی ظاہر ہو گا ساری دنیا اس کی مخالفت کرے گی۔چنانچہ حضرت اسحاق کی قوم نے جو نسلی دشمنی حضرت اسماعیل کی اولاد سے کی وہ کسی سے نہ کی۔تو ریت پڑھ کر دیکھ لو یہودیوں کی کتابوں کو پڑھو سوائے گالیوں کے کوئی کلمہ خیر حضرت اسماعیل اور ان کی اولاد کے متعلق نہ ہو گا۔پھر رسول کریم اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہوئے آپ کے متعلق بھی یہی ہوا تمام دنیا نے آپ کی مخالفت کی یہودیوں نے آپ کی مخالفت کی اور عیسائیوں نے آپ کے خلاف سارا زور لگایا۔یہودی عیسائیوں کے دشمن ہیں اور عیسائی یہودیوں کے لیکن رسول کریم ﷺ کی دشمنی میں دونوں اکٹھے صلى الله صلى الله