خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 39

خطبات محمود ۳۹ سال ۱۹۲۹ء چاہا کہ کیسی آواز ہے آخر معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا کر رہے ہیں اور یہ آپ کی آواز ہے آپ اُس وقت کہہ رہے تھے۔الہی! اگر دنیا اسی طرح ہلاک ہو گئی تو تیری عبادت کون کرے گا۔دیکھو طاعون آپ کے نشان کے طور پر ظاہر ہوئی تھی اور آپ کے دشمنوں کی ہلاکت کے لئے نمودار ہوئی تھی۔مگر جب لوگ مرنے لگے تو پھر آپ کو فکر ہوئی کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کون کرے گا اور ایمان کون لائے گا۔اس درد اور تکلیف کی وجہ یہی تھی کہ سب آپ کو ورثہ میں دیئے گئے تھے۔ان کا مرنا آپ کی جماعت میں کمی واقعہ ہونا تھا تو تمام دنیا انبیاء کی ملکیت ہوتی ہے اور پھر ان کے نائبوں کی۔بچے نائب وہی ہوتے ہیں جو ساری دنیا کے خیر خواہ ہوں نہ کہ کسی خاص قوم کے۔اور بچے خیر خواہ دنیا کے وہی ہوتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ہم سب ایک دن بھائی بھائی بن جائیں گے۔کیا ہوا اگر اب کوئی مخالفت کرتا ہے۔دوسرے لوگ اس نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح بکری شیر کو دیکھتی ہے۔یا یوں سمجھ لو کہ کسی نے چیتا یا شیر پالا ہوا ہو اور وہ چھوٹ جائے مالک تو اسے اس طرح پکڑنے کی کوشش کریگا کہ وہ مرے نہیں بلکہ کام آ سکے مگر چیتا اپنے مالک پر اس طرح حملہ کرے گا کہ اسے پھاڑ ڈالے تا کہ آزاد ہو جائے۔یہی حال انبیاء کی جماعت اور دوسرے لوگوں کا ہوتا ہے۔انبیاء کی جماعت کا پورا زور اس بات پر صرف ہوتا ہے کہ لوگ بچ جائیں تباہ نہ ہوں تا کہ ہمارے بھائی بن جائیں مگر دوسروں کا پورا ز در اس بات پر ہوتا ہے کہ انبیاء کے ماننے والے ہلاک ہو جائیں تا کہ وہ ان کے قبضہ میں نہ چلے جائیں۔جب یہ صورت حال ہے تو ہمارا فرض ہے کہ یہ بھی دیکھیں کہ لوگ ہمارے متعلق کیا ارادے رکھتے ہیں اور ہمارے خلاف کیا کیا کوششیں کر رہے ہیں۔بے شک ایسے بھی لوگ ہیں جن میں شرافت اور دیانت داری پائی جاتی ہے اور جو انسانیت کا سلوک کرتے ہیں لیکن بہت سے ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ جماعت ہماری دشمن ہے اور کل ہماری جگہ پر قبضہ کر لے گی۔اس وجہ سے وہ ہر رنگ میں اور پورے زور کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں اور اس طرح حق کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ زور لگاتے رہے ہیں۔دیکھو شرک کتنی کھلی اور واضح بُرائی ہے لیکن جب موحد دنیا میں کھڑے ہوئے تو مشرک لوگ اسی طرح ان کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو گئے جس طرح سچائی پر