خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 304

نطبات محمود ۳۰۴ ۴۰ سال ۱۹۳۰ء جمعۃ الوداع کی حقیقت فرموده ۲۸ فروری ۱۹۳۰ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج رمضان کا آخری جمعہ ہے اور بہت سے لوگ اس خیال میں مبتلاء ہیں کہ وہ اس جمعہ میں اپنی جان بوجھ کر چھوڑی ہوئی نمازوں کی معافی لے لیں گے۔وہ اس خیال میں مبتلاء ہیں کہ اگر آج وہ دو رکعت نماز اللہ کے حضور گزار لیں تو گویا اس کے سب فضلوں اور احسانوں کا بدلہ اُتار دیں گے۔ان کے خیال میں خدا کی خدائی ان کے چار سجدوں پر منحصر ہے۔اگر وہ یہ سجدے نہ کریں تو اللہ تعالٰی نَعُوذُ بِاللہ الوہیت سے محروم ہو جائے لیکن ان کے اس احسان کے ذریعہ وہ پھر الوہیت کے عرش پر جلوہ فرما ہو جاتا ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ بطور احسان کے ہوتے ہیں چٹی نہیں ہوتے اور حیلے صرف ایسے ہی احکام کے متعلق تلاش کئے جاتے ہیں جو انسان کے لئے بطور سزا یا جرمانہ ہوں۔ان کے متعلق انسان خیال کرتا ہے کسی طرح اس وبالِ جان سے بچ جاؤں لیکن دنیا میں کوئی انسان اس بات کے لئے حیلے نہیں تلاش کیا کرتا کہ اس کے ہاں اولاد نہ ہو اس کی بیماریاں اچھی نہ ہوں وہ علم سے محروم رہے اس کے رشتہ دار اور دوست احباب سکھ اور آرام کی زندگی بسر نہ کریں اور وہ اور اس کی اولا د دنیا میں معتزز و مؤقر نہ ہو۔حیلے ہمیشہ اسی لئے لوگ تلاش کرتے ہیں کہ انہیں دکھ تکالیف اور مصیبتیں پیش نہ آئیں، سکھ اور آرام سے بچنے کے لئے حیلے نہیں تلاش کئے جاتے۔پس خدا تعالیٰ کے احکام سے بچنے کے لئے اگر حیلے تلاش کئے جائیں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم اس کے حکموں کو